مہنگائی کا طوفان ‘ہر شہری بے حال اشیاء مہنگی‘ٹرانسپورٹ کرایوں میں30فیصد اضافہ ‘وزیراعظم نے ٹرینوں کے کرائے بڑھانے سے روکدیا
حکومت ریلوے کیلئے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ اٹھائے گی‘ٹرین کرایوں میں متوقع 30 فیصد اضافہ روک دیا گیا ‘حکومت 30 جون تک تقریباً 6 ارب کا اضافی بوجھ خود برداشت کرے گی
محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب اور ٹرانسپورٹرزمیں مذ اکرات کے بعد بسوں کے کرایوں میں 25 سے 30 فیصد اضافے پر اتفاق ‘نئے اضافے کے تحت کرایہ نامہ دوبارہ مرتب کیا جائیگا ، نئی فہرستیں جاری کی جائیں گی:سیکرٹری آر ٹی اے
آئل ٹینکرزمالکان کا آج سے پہیہ جام ہڑتال کا فیصلہ‘جب تک کرایہ نہیں بڑھایا جاتا، ٹینکرز نہیں چلیں گے‘مطالبات منظور نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا:صدر آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن
اسلام آباد‘کراچی(آئی این پی‘آن لائن )‘پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا‘اکثر اشیاء عوام کی قوت خرید سے باہر ہو گئیں جبکہ حکومت نے عوام پر دہرا بوجھ ڈالتے ہوئے پیٹرولیم لیوی کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کردیا۔حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا جس کے بعد پیٹرول پر لیوی بڑھ کر 160.61 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اس سے پہلے پیٹرولیم لیوی 106 روپے فی لیٹر تھی۔ہائی اوکٹین پر لیوی 305 روپے 37 پیسے فی لیٹر اور مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر کردی گئی، لائٹ ڈیزل پر 15 روپے 84 پیسے اور فرنس آئل پر لیوی 77 روپے فی میٹرک ٹن کردی گئی۔ رواں مالی سال پیٹرولیم لیوی کا ہدف ایک ہزار 468 ارب روپے مقرر ہے، لیوی کی شرح بلند ہونے سے نان ٹیکس ریونیو میں مزید اضافہ متوقع ہے۔دوسری جانب لیوی میں اضافے سے کمرشل پروازوں کیلئے جیٹ فیول کی قیمت میں ایک ماہ کے دوران چھٹی بار بڑا اضافہ کر دیا گیا۔ حکومت پاکستان نے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث ٹرین کرایوں میں متوقع 30 فیصد اضافہ روک دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آپریشنل اخراجات پورے کرنے کے لیے کرایوں میں اضافہ ناگزیر سمجھا جا رہا تھا، تاہم وزیرِ اعظم نے اس کی اجازت نہیں دی۔ وزیرِ اعظم کی واضح ہدایت پر پاکستان ریلویز کی کسی بھی کلاس—اکانومی، بزنس یا اے سی—کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ تاجر برادری کو سہولت دینے کے لیے فریٹ ٹرینوں کے کرایوں میں بھی اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت نے 30 جون تک تقریباً 6 ارب روپے کا اضافی بوجھ اپنے ذمہ لینے کا اعلان کیا ہے تاکہ عوام کو مزید مہنگائی سے بچایا جا سکے۔دریں اثناءآئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے آج سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کے اعلان کے بعد پیٹرول بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ۔ایسوسی ایشن کے صدر عبداللہ آفریدی نے تمام ٹینکر مالکان کو ہدایت جاری کی ہے آج سے کسی بھی آئل ٹینکر کو لوڈ نہ کیا جائے۔عبداللہ آفریدی کا کہنا ہے کہ موجودہ کرایوں میں کام جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا، کیونکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹرز کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے متعلقہ حکام سے رابطے جاری ہیں لیکن کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہو سکی، حکومتی نمائندے علی پرویز سے متعدد بار رابطہ کیا گیا اور خطوط بھی ارسال کیے گئے، مگر مذاکرات کی درخواست پر توجہ نہیں دی گئی۔صدر ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ "نقصان سے بہتر ہے گاڑیاں کھڑی رکھی جائیں، جب تک کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا، ٹینکرز نہیں چلیں گے۔علاوہ ازیں محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان اہم اجلاس میں کرایوں سے متعلق معاملات پر اتفاق رائے ہو گیا۔سیکرٹری آر ٹی اے رانا محسن کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے جس کے بعد خود ساختہ 65 فیصد کرایہ اضافہ واپس لے لیا گیا ہے۔ اب بسوں کے کرایوں میں 25 سے 30 فیصد اضافے پر اتفاق کیا گیا ہے۔سیکرٹری آر ٹی اے کے مطابق نئے اضافے کے تحت کرایہ نامہ دوبارہ مرتب کیا جائے گا اور اسی بنیاد پر نئی فہرستیں جاری کی جائیں گی۔آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے بھی اس فیصلے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔