عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 6.20 فیصد کم ہوئی ہے، جو 4.15 ڈالر کم ہو کر 62.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 5.77 فیصد کم ہو کر 66.09 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جو 4.05 ڈالر کی کمی کی نمائندگی کرتی ہے۔خام تیل کی قیمتوں میں یہ کمی بنیادی طور پر دو اہم عوامل کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ایک طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعارف کردہ ٹیرف نے عالمی سطح پر کساد بازاری کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی مانگ میں کمی کا امکان ہے۔ دوسری طرف، اوپیک (او رگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کاؤنٹریز) نے مئی میں اپنے طے شدہ کوٹہ سے زائد تیل پیدا کرنے کا عندیہ دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں اضافے کا امکان ہے، اور اگر سپلائی مانگ سے زیادہ ہو گئی تو قیمتیں مزید گر سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکی ٹیرف کی وجہ سے عالمی سطح پر کساد بازاری کے خدشات بڑھنے سے تیل کی طلب کم ہو سکتی ہے، جو خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا باعث بنے گی۔ اوپیک کی جانب سے اضافی پیداوار کی پیشکش بھی تیل کی قیمتوں کو مزید نیچے لے جا سکتی ہے، کیونکہ اس سے مارکیٹ میں تیل کی فراہمی زیادہ ہو جائے گی، جو قیمتوں پر دباؤ ڈالے گا۔عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ عالمی معیشت کی صحت، عالمی طلب، اور پیداوار کی سطح پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔