لاہور(خصوصی رپورٹ )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اکبر ڈوگر نے 4سال بعد شوہر کے قتل کے مقدمہ میں سزائے موت پانے والی اہلیہ اور اس کے آشنا کو بری کردیا جسٹس سردار اکبر ڈوگر نے قرار دیا کہ گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات موجود ہیں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چودھری اور جسٹس سردار اکبر ڈوگر نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔22 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس سردار اکبر وگر نے تحریر کیا۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ مدعی کے مطابق خاتون کے ملزم کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ملزمہ کا شوہر منیر احمد بیوی کو دلاور سے ملنے سے منع کرتا تھا۔ مقدمیکے مطابق بیوی حنااور منیر احمد شادی کی تقریب میں گئے،منیر واپس نہ آیا تلاش کرنے پر اس کی لاش ملی۔پراسیکیوشن کے مطابق اہلیہ اور دلاور نیدو نامعلوم افراد کیساتھ ملکر شوہر کو قتل کیا۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ پراسیکیوشن کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی،موقع پر کوئی گواہ نہیں تھا، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔خیال رہے ملزموں کیخلاف تھانہ سرگودھا پولیس نے 2019 میں قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔