بالی ووڈ کے ماضی کے مشہور اداکار منوج کمار 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔
ان کا انتقال ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بائی امبانی اسپتال میں دل کی پیچیدگیوں کے باعث جمعہ کی صبح 3:30 بجے ہوا۔ اسپتال کے میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے مطابق ان کی موت کی ثانوی وجہ جگر کی خرابی تھی۔منوج کمار کو حب الوطنی پر مبنی فلموں جیسے پورب پچھم اور کرانتی میں ان کے کرداروں کے لیے جانا جاتا تھا۔ ان کا کام نہ صرف سنیما کی دنیا میں ایک سنگ میل تھا، بلکہ ان کی فلموں نے قومی فخر اور عزم کا جذبہ بھی جگایا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ منوج کمار ایک ’لیجنڈری اداکار اور فلم ساز‘ تھے جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔منوج کمار کے بیٹے کنال گوسوامی نے بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد طویل عرصے سے صحت کے مسائل سے نمٹ رہے تھے اور یہ خدا کا کرم تھا کہ انہوں نے پرامن طریقے سے اس دنیا کو الوداع کیا۔ ان کا جنازہ اگلے دن صبح دفن کیا جائے گا۔
منوج کمار کا تعلق پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے تھا، جو اس وقت برصغیر کا حصہ تھا، اور ان کا اصل نام ہری کرشنن گوسوامی تھا۔ انہوں نے بالی ووڈ میں 1957 میں فلم فیشن سے ڈیبیو کیا، اور اس کے بعد کانچ کی گڑیا (1961) اور دیگر فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی فلم اپکار (1967) اور پورب پچھم (1970) میں حب الوطنی کے موضوعات پر ادا کیے گئے کردار ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی ہدایت کاری میں بنی فلم شور (1972) بھی اہم حیثیت رکھتی ہے۔منوج کمار کی گزر جانے کے بعد بالی ووڈ میں ایک اور عظیم شخصیت کا خلا پیدا ہو گیا ہے، لیکن ان کی فلموں اور کرداروں کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔