اسلام آباد‘کراچی(آن لائن )ملک بھر کی عدالتوں میں یکساں اور جدید ای۔فائلنگ نظام متعارف کرانے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان نے سندھ بار کونسل کے وفد سے اہم مشاورتی ملاقات کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ آف پاکستان، برانچ رجسٹری کراچی میں یہ ملاقات چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت کے ہمراہ کی۔ وفد کی قیادت سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین اشتیاق احمد میمن کر رہے تھے۔ وفد میں صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سینئر وکلا اور بار کے نمائندے شامل تھے۔ ملاقات کا مقصد سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کے لیے ایک متحدہ اور معیاری قومی ای۔فائلنگ فریم ورک تیار کرنا تھا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ "نیشنل اسٹینڈرڈائزڈ ای۔فائلنگ سسٹم" ایک منظم، صارف دوست اور قانون کے مطابق پلیٹ فارم ہوگا جو عدالتی کارروائی کی تمام قانونی ضروریات کو پورا کرے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اقدام عدلیہ کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے عدالتی عمل کو جدید بنانا، شفافیت اور کارکردگی بڑھانا، پیش گوئی کے قابل نظام دینا اور سائلین و وکلا کے لیے انصاف تک رسائی آسان بنانا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بار اس نظام کا بنیادی اسٹیک ہولڈر اور صارف ہونے کی وجہ سے معیاری ای۔فائلنگ ٹیمپلیٹس کی تیاری اور نظام کے کامیاب نفاذ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔