روس نے کہا ہے کہ اگر ملک میں ڈیزل کی پیداوار مقامی طلب سے بڑھ گئی تو ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندی میں جزوی نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک کے مطابق ملک کی مقامی ڈیزل مارکیٹ اس وقت متوازن ہے اور مقامی طلب پوری کرنے کے لیے ایندھن کی وافر مقدار موجود ہے۔روسی خبر رساں ادارے کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں گفتگو کرتے ہوئے نوواک نے بتایا کہ روس نے ڈیزل پیدا کرنے والی کمپنیوں پر برآمدی پابندی اکتوبر کے اختتام تک بڑھا دی ہے، تاہم صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیزل کی ملکی پیداوار مقامی طلب سے تجاوز کرتی ہے تو روس برآمدات کو جزوی طور پر دوبارہ کھولنے پر غور کر سکتا ہے۔روس نے حالیہ عرصے میں مقامی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈیزل کی بیرونِ ملک فروخت محدود کر رکھی ہے۔
نوواک کے مطابق روس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔روسی نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ گزشتہ رات توانائی کے چار ریفائنری مراکز پر حملے ناکام بنائے گئے، جبکہ ایک ریفائنری کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ریفائنریوں کے تحفظ کے اقدامات کے باعث حالیہ حملوں سے ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے۔دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو پر عائد پابندیاں ختم ہونے تک روس عالمی توانائی مارکیٹ کو اپنا ڈیزل فراہم نہیں کرے گا۔