اسلام آباد ،پولیس پریس کلب میں گھس گئی، صحافیوں پر تشدد

 کلب میں توڑ پھوڑ کرتے رہے ،طلال چودھری نے کلب پہنچ کر معافی مانگ لی 
وزیر داخلہ نے انکوائری کا حکم دیدیا ، صحافتی تنظیموں کی جانب سے واقعہ کی مذمت 
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ) نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مظاہرے کے بعد کارکنوں کی گرفتاری کیلئے اسلام آبادپولیس نے پریس کلب میں داخل ہوکر دھاوا بول دیا پولیس اہلکاروں نے پریس کلب میں توڑ پھوڑ کرتے سمیت صحافیوں پر بھی تشدد کیا جبکہ پریس کلب کیکیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑکرنے سمیت پریس کلب میں موجود صحافیوں اورپریس کلب کے ملازمین پرلاٹھیاں برسانے سمیت تشدد کرتے رہے اور پریس کلب کے ملازمین کو بھی گرفتار کرکے لے گئے اس دوران پولیس اہلکار پریس کلب میں توڑپھوڑ کرتے رہے پریس کلب میں پولیس کے دھاوا بولنے اورصحافیوں کوتشد د کا نشانہ بنائے جانے کے افسوس ناک واقعہ کے خلاف جڑواں شہروں کے صحافیوں صحافی تنظیوں نے بھرپوراحتجاج کرتے رہے جبکہ ملک بھر کیپریس کلبوں اورصحافتی یونینزنے اس واقعہ کو صحافت پرحملہ قراردیا ہے دری اثنآوزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نیشنل پریس کلب اسلام آباد پہنچ گئے، پولیس حملہ پر معذرت کرلی، جیسے پولیس حملہ کا پتہ چلا وزیر داخلہ نے نوٹس لیا، ٓکشمیر ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری نے ایس ایچ او اور پولیس کے ساتھ بدتمیزی کی، پولیس ان کا پیچھا کرتے ہوئے پریس کلب کے اندر آئی، پولیس کو اندر نہیں جانا چاہئے تھا، معافی مانگتا ہوں تاہم صحافتی تںنظیوں نے آج جمعہ کو احتجاج کی کال دے دی اور پریس کالب میں دھاوا بولنیوالے پولیس اہلکاروں کی برطرفی تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھاجائے گا۔صدر پی ایف یو جے افضل بٹ کا کہنا تھا کہ ہم نے مارشل لا، ایمرجنسی اور ایمرجنسی پلس دیکھی، اْس دور میں بھی ایسے واقعات نہیں ہوتے تھے۔انہوں نیکہا کہ آج کا یہ واقعہ معمولی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے۔سیکریٹری جنرل پی یو ایف جے ارشد انصاری نے اسلام آباد پریس کلب میں صحافیوں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ خلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تشدد کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’صحافی برادری پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں۔ واقعہ میں ملوث اہلکاروں کا تعین کر کے انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔