شطرنج کی بساط اور تاریخ کا فیصلہ

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
وہ وقت یادکیجیے جب نریندرمودی نے امریکی صدرکو’’مائی فرینڈ‘‘کے لقب سے نوازاتھا،مودی اورٹرمپ کے ابتدائی تعلقات بہت گرم جوش تھے،مودی جی کے لبوں سے کبھی’’مائی فرینڈ‘‘کے پھول ہی نہیں جھڑتے تھے بلکہ تکبرسے اکڑی گردن بھی خطے کے ممالک کوپیغام دے رہی ہوتی تھی،مگروقت کاپہیہ ایساگھوما کہ امریکی تجارتی پالیسی میں بھارت کیلئے دی گئی مراعات ختم کرنے اورٹیرف بڑھانے سے رشتے میں ایسی دراڑپڑگئی کہ مودی جی منہ کے بل گرکررام رام بھی نہ پکارسکے۔چندہی مہینوں میں یہی دوستی،یہی زبان’’ٹیرف کنگ‘‘طنزیہ پکارمیں بدل کرحلق میں کانٹے لے آئی۔ایف-35طیاروں کی پیشکش اور پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کی براہِ راست بات چیت نے دہلی اوروائٹ ہاس کے درمیان وہ رسی ڈھیلی کردی جوکبھی تنی ہوئی تھی۔ 
مودی کی100منٹ کی تقریرگویاایک لمباکارواں تھی،مگراس میں نہ ایف-35کاذکرآیا،نہ ٹرمپ کی ثالثی کی نفی یاتردیدکرنے کی ہمت ہوئی۔انہوں نے نہروکانام14بارلیا مگر چین کاایک باربھی نہیں،گویااصل حریف کے خیمے کودیکھ کربھی آنکھیں چرالیں۔جان بوجھ کر بڑے تنازع کونظراندازکیاگیا۔یہ سفارتکاری کاوہ پہلو ہے جہاں خاموشی بھی ایک بیانیہ ہوتی ہے لیکن اپوزیشن نے اسے مودی بلنڈرکو مودی سرنڈرکانام دیکر پارلیمنٹ میں اس کاناک میں دم کردیا۔گویاایک بڑافیلڈمارشل دشمن کے خیمے کونظراندازکرکے چھوٹے مورچوں پرگولہ باری کرے۔یہی وہ مودی کی مکارسیاست ہے جسے’’خاموش اعتراف‘‘کہاجاسکتاہے لیکن اپوزیشن مودی کے منہ سے یہ کہلوانے پربضدہے کہ مودی اپنی غلطیوں اورشکست کااعتراف اورسیندورکے اجڑنے کی ذمہ داری قبول کرے۔
بنیان مرصوص قرآنِ حکیم میں یہ وہ مثال ہے جو ایمان والوں کی صف کو مضبوط عمارت سے تشبیہ دیتی ہے،ہمیشہ جس کی اینٹیں باہم جمی اورجڑی ہوئی ہوں۔اوراہلِ یقین کیلئے الہام کاسرچشمہ رہاہے۔فوجی دائرے میں اس کامطلب ایک ایسی یکجاقوت ہے جو اندرونی اتحاداوربیرونی طاقت دونوں رکھتی ہو۔اسی قرآنی تصورسے متاثرہوکرایک جدید عسکری آپریشن کویہ نام دیاگیا،اسی سے متاثرہوکرایک جدیدعسکری مہم کانام رکھاگیا،جس کامرکز’’فتح‘‘میزائل تھا۔گویاجدیدجنگی ٹیکنالوجی کوقرآنی استعارے کے سائے میں پروکرایک نئی معنویت دی گئی۔جس میں’’فتح‘‘میزائل گویااس عمارت کی سب سے بلندفصیل تھا۔اس طرح آپریشن بنیان المرصوص، ایمان اورعسکریت کاایساامتزاج بن گیاجس کورب کائنات نے فتح مبین دلادی۔
پاکستان فوج نے راکٹ فورس کمانڈکاقیام ایک ایسے وقت میں کیاجب خطے میں ہتھیاروں کی دوڑنے نئی شکل اختیارکرلی ہے۔یہ محض ایک عسکری شاخ نہیں بلکہ مستقبل کے معرکوں میں فیصلہ کن کرداراداکرنے والی قوت اوراتش فشاں ہے جودشمن کوجلاکر راکھ کردینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔راکٹ فورس کمانڈایک مخصوص عسکری یونٹ ہے جس کامقصد میزائلوں اورراکٹ سسٹمزکی کمان اورآپریشن سنبھالناہے۔اس میں مختلف رینج اورصلاحیتوں والے ہتھیارشامل ہیں۔اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ جدیدجنگ محض بندوق اورٹینک کی لڑائی نہیں،بلکہ میزائل،ڈرون،اورراکٹ سسٹم کے امتزاج کاتقاضاکرتی ہے۔اس کاقیام اس حقیقت کااعلان ہے کہ آنے والی جنگیں صرف توپ وتفنگ سے نہیں بلکہ زمین
وفضا کی مشترکہ یلغارسے جیتی جائیں گی۔
چین،روس،امریکا،اورشمالی کوریامیں راکٹ فورس کئی دہائیوں سے موجوداورسرگرم ہے۔بھارت نے ڈرون بٹالین کووسعت دی،اور پاکستان کاجواب راکٹ فورس کمانڈکی شکل میں زمین پرمجاہدین کی یلغارتیارکرلی گئی ہے۔اگرڈرون فضاکے شکاری پرندے ہیں تو راکٹ فورس زمین کے غیظ وغضب کے آتش فشاں ہیں۔دونوں کاتقابل اس بات کوظاہر کرتاہے کہ جدید جنگ میں آسمان اورزمین دونوں کواپنے اپنے سپاہی چاہیے۔حالیہ پاک بھارت جنگ نے ڈرون ٹیکنالوجی پراپنی مہارت کااظہارکرکے ساری دنیاکومبہوت کر دیاہے اور بالخصوص اسرائیلی کامی کازہاروپ ڈرونزکی تباہی اورانہیں زمین پربحفاظت اتارلینے کے بعداسرائیل کے ہاتھوں کے طوطے بھی اڑ گئے ہیں کہ وہ تواپنے ان ڈرونزکو ناقابل تسخیرسمجھتے ہوئے پینٹاگون کوبھی خاطرمیں نہیں لارہاتھالیکن پاکستان کے اس معرکے کے بعدجب اسے اطلاع ملی کہ آدم پوربیس سے اس کے 20آپریٹرزکے تابوت بھی رات کی تاریکی میں تل ابیب پہنچ رہے ہیں تواس نے فوری طورپرامریکاکومددکیلئے پکاراکیونکہ پاکستان کی طرف سے یہ سگنل پہنچ گیاتھاکہ اب براہِ راست اسرائیل ہماری زدمیں ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ آخرپاکستان کواس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟دراصل بھارت کے جدیدہتھیاروں کاجواب،خصوصابیلسٹک میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ خطے میں طاقت کاتوازن قائم رکھنے کیلئے جدیدجنگی حکمتِ عملی میں زمینی اورفضائی ہتھیاروں کی ہم آہنگی کیلئے اس یونٹ کی اشدضرورت ہے تاکہ دشمن کے عزائم کاپوری قوت سے جواب دیاجاسکے۔اسی لئے قرآن کریم میں فرمان الہی ہے کہ :
 اورتم لوگ،جہاں تک تمہارابس چلے،زیادہ سے زیادہ طاقت اورتیاربندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ کیلئے مہیارکھوتاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اپنے دشمنوں کواوران دوسرے اعداکوخوفزدہ کردوجنہیں تم نہیں جانتے مگراللہ جانتاہے۔اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کروگے اس کاپوراپورابدل تمہاری طرف پلٹایاجائے گااورتمہارے ساتھ ہرگزظلم نہ ہوگا۔(الانفال:60)
یہ سب واقعات بتاتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کی بساط پرہرچال شطرنج کی طرح حساب سے کھیلی جارہی ہے۔دلی اوراسلام آبادکے بیچ کا فاصلہ محض میلوں کانہیں بلکہ پالیسیوں اور ترجیحات کاہے،اورواشنگٹن کی قربت محض سفارت کی گرمی نہیں بلکہ مفادات کی آگ ہے۔تاریخ کی رفتارکبھی آہستہ چلتی ہے،مگربعض اوقات وہ دوڑتی ہوئی گزرجاتی ہے اورپیچھے مڑکرنہیں دیکھتی۔آج جنوبی ایشیا ایک ایسے دہانے پرکھڑاہے جہاں ہرفیصلہ آنے والی دہائیوں کی سمت متعین کرسکتاہے۔دلی اوراسلام آباد کے بیچ پھیلایہ فاصلہ،اورواشنگٹن کی بدلتی قربت،گویاایک نئے عہد کی تمہیدہے۔یہ وہ عہدہے جہاں عسکری قوت صرف توپ وتفنگ سے نہیں بلکہ ذہانت، ٹیکنالوجی اورسفارت کے امتزاج سے جانی جائے گی۔ہماری بساط بچھ چکی ہے،مہرے اپنی جگہ پرہیںاب دیکھنایہ ہے کہ اگلی چال کس کے ہاتھ میں بازی لے جاتی ہے،اورکون اس پیچیدہ کھیل میں اپنی تاریخ کافاتح باب لکھتا ہے۔
وقت کا قافلہ رکتانہیںیہ یاتومعرکے جیتنے والوں کے ساتھ آگے بڑھتاہے یاہارنے والوں کوگردِراہ میں چھوڑدیتاہے۔آج جنوبی ایشیا کی بساط پرجوچالیں کھیلی جارہی ہیں،وہ محض لمحاتی سیاست نہیں بلکہ آئندہ نصف صدی کی بنیادہیں۔یہ سب مل کرایک نئے عہدکی تمہیدہیں،جہاں علم،ٹیکنالوجی اورعزم ہی حقیقی ہتھیارہیں۔شطرنج کے مہرے اپنی جگہ سنبھال چکے ہیںاب دیکھنایہ ہے کہ اگلی چال تاریخ کافاتح کون لکھتاہے۔میرے بہت ہی عزیزدوست جناب ریٹائرڈجنرل نعیم لودھی صاحب جن کی خطے کی سیاسی اور عسکری حالات پرگہری نظرہے،ایک اہم سوال پوچھاہے کہ کیا فلیگ شپ پروجیکٹ سی پیک اوربی آرآئی ،جوافغانستان،ایران اور بیشترممالک میں چینی اثرورسوخ کے ساتھ اپنے تکمیل کی طرف بڑھ رہاہے،توکیاخطے(خصوصاًپاکستان)میں امن کیلئے کام کرنا امریکاکے مفادمیں ہے؟توکیادہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ امریکی تعاون،کوئی سیاسی معنی رکھتاہے؟بہت ہی اہم اورانتہائی اہمیت کے حامل اس سوال کاجواب اگلے کالم میں ان شاء اللہ دینے کی کوشش کروں گا۔ان شااللہ