پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے مرحلے کا آغاز، وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے امریکا، چین، سعودی عرب اور دبئی کے ساتھ تعلقات میں واضح بہتری آئی ہے۔
اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان اب ایک قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے، اور خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں شعبہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات مثالی سطح پر پہنچ رہے ہیں، اور یہ شراکت داریاں باہمی اعتماد اور سمجھ بوجھ پر مبنی ہیں۔ چین کے ساتھ پاکستان کا تعلق بہت مضبوط ہے اور دونوں ممالک سی پیک کے فیز تھری پر کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ اپنی رسائی میں بہتری لا رہا ہے، اور ترکی و ایران کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف ایک مؤثر آواز بن چکا ہے، اور اصلاحات پر بھرپور توجہ مرکوز ہے۔ خارجہ پالیسی کو اعتماد اور استحکام کی علامت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اب دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے بھی خطاب میں علاقائی سطح پر رابطہ کاری اور سفارتی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نریندر مودی کی جانب سے پاکستان پر حملہ کرنے کے منصوبے کے باوجود، پاکستان نے اتحادی اور سفارتی سطح پر کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس سی او کانفرنس سے علاقائی روابط میں اضافہ ہوا ہے، اور پاکستان میں قیادت کی تبدیلی کے بعد نئی حکومت، یعنی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر، فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان کے بدلتے ہوئے جیوپولیٹیکل حالات سے حیران ہے، اور پاکستان کی سفارت کاری نے عالمی ماحول کو تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی طاقت اور اثرورسوخ میں اضافہ کیا ہے، اور جیوپولیٹیکل چیلنجز سے مقابلہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔