ترقیاتی فنڈز میں300ارب کٹوتی کی تجویز

 آئی ایم ایف کی شرائط ، سیلاب سے نقصانات، اہم منصوبوں پرکٹ لگے گا 
پی ایس ڈی پی سائز 1 ہزار ارب سے7 سو ارب تک محدود ہو جائیگا 
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 2025-26 کیلئے مختص ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز میں سے 300ارب کٹوتی کی تجویز دی ہے۔ سیلابی نقصانات، ریونیو میں کمی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث ترقیاتی فنڈز میں کمی کی جا رہی ہے،فنڈز کٹوتی کے باعث اہم منصوبوں پرکٹ لگے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پی ایس ڈی پی میں تقریباً تین سو ارب روپے کی کمی متوقع ہے جس کے بعد رواں مالی سال کیلئے ترقیاتی فنڈز کا حجم تقریباً سات سو ارب روپے تک محدود ہو جائے گا۔ابتدائی طور پر رواں مالی سال کیلئے 14 سو ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا تھا، تاہم وفاقی آمدن میں کمی اورمالی دبائوکے باعث اسے پہلے کم کر کے ایک ہزار ارب روپے کیا گیا۔ گزشتہ مالی سال حکومت نے ایک ہزار96ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے تھے۔ اس طرح رواں سال تقریباً چار سو ارب روپے کم خرچ ہوں گے جو گزشتہ سال کی نسبت 37 فیصد کمی ظاہر کرتے ہیں۔دستاویز کے مطابق حکومت فنڈز ریلیز سٹرٹیجی کے تحت جولائی تا دسمبر 35 فیصد فنڈز مختص نہیں کر سکی۔ 350 ارب روپے کی بجائے 330 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اتھارائزڈ کئے گئے جبکہ پہلی سہ ماہی کے دوران 15 فیصد فنڈز بھی مکمل خرچ نہ ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سیلابی نقصانات، ریونیو میں کمی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث ترقیاتی فنڈز میں کمی کی جا رہی ہے۔ حکومت کو جی ڈی پی کے 1.6 فیصد پرائمری بیلنس کا ہدف حاصل کرنا ہے جس کیلئے تقریباً 2.1 ٹریلین روپے درکار ہوں گے۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا دسمبر کے دوران 36 وزارتوں اور ڈویڑنز کیلئے 219 ارب روپے، جبکہ این ایچ اے اور پاور ڈویڑن (این ٹی ڈی سی/پیپکو)کیلئے 111 ارب روپے مختص کئے گئے۔ وزارت منصوبہ بندی نے تمام وزارتوں اور ڈویڑنز کے پرنسپل اکائونٹنگ آفیسرز کو ہدایت کی ہے کہ پہلی ششماہی کے دوران مختص شدہ فنڈز کے بروقت اخراجات کو یقینی بنائیں اور دسمبر تک رپورٹ جمع کرائیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ جاری منصوبوں کو ترجیح دیتے ہوئے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ اور فنڈز ریلیز سٹرٹیجی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ جولائی تا دسمبر کے دوران سب سے زیادہ رقم صوبوں اور سپیشل ایریاز کے منصوبوں کیلئے 68 ارب روپے، واٹر ریسورسز ڈویڑن کیلئے 45 ارب روپے، سرمایہ کاری بورڈ کیلئے24 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کمیشن کیلئے 15 ارب 74 کروڑ روپے، وزارت داخلہ کیلئے 6 ارب 46 کروڑ روپے، ریلوے ڈویڑن کیلئے7 ارب 84 کروڑ روپے اور سپارکو کیلئے 1 ارب 90 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی کے حکام سے رابطہ کیا گیا تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔