سپریم کورٹ نے خانپور ڈیم کے آلودہ پانی کی فراہمی سے متعلق کیس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کیا ہے۔
عدالت کی سماعت کے دوران، واپڈا کے وکیل احسن رضا نے بتایا کہ خانپور ڈیم پانچ ملین لوگوں کو پانی فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہے اور انتظامیہ اس سلسلے میں سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے 20 کشتیاں چلتی تھیں، اب 326 کشتیاں ڈیم میں استعمال ہو رہی ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پی ایچ اے ڈیپارٹمنٹ کو بھی چاہیے کہ وہ اس حوالے سے کوئی اصول طے کرے، اور جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ڈیم کی انتظامیہ کہہ سکتی ہے کہ موٹر بوٹس چلانا منع ہے۔ وکیل نے بتایا کہ بوٹنگ پر لوگ پیسے کما رہے ہیں اور 6 ریزروٹس بھی بنا لیے گئے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ بغیر اجازت یہ کشتیوں کیسے چل سکتی ہیں؟ جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کہ بوٹنگ روکنے کے لیے آپ کا کیا کردار ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے درخواست بھی دائر کی ہے، اور خانپور تحصیل کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر کشتیوں سے آلودگی پھیل رہی ہے، تو کوئی متبادل راستہ بھی ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ الیکٹرک کشتیاں بھی موجود ہیں، جن سے آلودگی نہیں پھیلے گی۔
آخر میں، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔