مظفرآباد: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان سیاسی مفادات کی دوڑ میں آزاد کشمیر میں اِن ہاؤس تبدیلی تاحال التوا کا شکار ہے
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں اِن ہاؤس تبدیلی کے معاملے میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے تاحال متبادل قائد ایوان کی نامزدگی نہیں کی ہے، جس کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد جمع کرانے میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنی عددی برتری کے دعووں کے باوجود تقریباً ڈیڑھ ہفتہ سے اپنی برتری ثابت کرنے سے قاصر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وطن واپسی کے بعد ہی عدم اعتماد کی تحریک جمع کرانے کا فیصلہ کریں گے۔ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر مسلم لیگ ن کے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ بھی اس التوا کی ایک وجہ ہے۔ اگر قبل از وقت انتخابات ہوتے ہیں، تو اس صورت میں اِن ہاؤس تبدیلی سے پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ نہیں پہنچ پائے گا۔ دوسری جانب، آزاد حکومت کا 80 فیصد ترقیاتی بجٹ ابھی خرچ ہونا باقی ہے، اور فوری بھرتیوں کے لیے تقریباً 2 ہزار نوکریاں، صحت کارڈ جیسے اہم اقدامات نئی حکومت کو سیاسی فائدہ دے سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی موجودہ مدت جولائی میں ختم ہو رہی ہے، اور انتخابات سے تقریباً 2 ماہ قبل تمام ترقیاتی کام روک دیے جاتے ہیں، ساتھ ہی نوکریوں پر تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار بھی محدود یا ختم ہو جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن مارچ میں انتخابات کے مطالبے پر بضد ہے، اور انتخابات سے 2 ماہ قبل یعنی جنوری میں نئی حکومت کو اختیارات سے محروم کر دیا جائے گا۔ اس لیے، دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں پیپلز پارٹی مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی کا اسمبلی مدت پوری کرنے کا اصرار اس ڈیڈلاک کی ایک مبینہ وجہ ہے۔