13 کروڑ کی آبادی کیلئے صرف 38 ہزار سکول ، دوسری شفٹ کا منصوبہ بھی غیر م ئوثر
لاہور(خصوصی رپورٹ)پنجاب کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے موجودہ سکول کم پڑنے لگے۔صوبہ میں 13 کروڑ کی آبادی کیلئے صرف 38 ہزار سکول ہیں۔ اس رفتار سے آبادی میں اضافہ جاری رہا تو 2040 تک پنجاب میں 19 ہزار مزید پرائمری سکولوں کی ضرورت ہوگی۔ تفصیل کے مطابق پنجاب میں سرکاری سکولوں اور انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث بچوں کو سکول لانے اور نئے داخلوں میں بھی مسائل سامنے آنے لگے۔ پاپولیشن کونسل پاکستان کے مطابق پنجاب میں شرح پیدائش اڑھائی فیصد سے زیادہ ہے۔ موجودہ شرح جاری رہی تو 2040 تک مزید 19 ہزار سکولوں کی ضرورت ہوگی۔پنجاب میں5سے 16 سال کے ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ پنجاب میں اس وقت 21 ہزار702پرائمری ،7 ہزار 2 سو مڈل 8 ہزار ہائی اور 8 سو ہائر سیکنڈری سکول ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں آخری نیا سکول 2011 میں بنا تھا جس کے بعد سے آبادی میں تو بے تحاشا اضافہ ہوا مگر نیا سکول نہ بنا۔ محکمہ سکول ایجوکیشن نے دوسری شفٹ کا منصوبہ شروع کیا مگر م ئوثر ثابت نہ ہوا۔ سکولوں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے ڈراپ آ ئوٹ میں اضافہ ہو رہا اور نئے داخلے بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔دوسری طرف محکمہ سکول ایجوکیشن نے اب نئے ماڈل کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ، صوبے میں 15 سو سکول پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنائے جائیں گے۔