پروفیسر سینیٹر ساجد میر انتقال کر گئے، دینی و سیاسی حلقوں میں غم کی فضا

پروفیسر سینیٹر ساجد میر انتقال کر گئے، دینی و سیاسی حلقوں میں غم کی فضا

ویب ڈیسک: مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ، ممتاز عالم دین اور سینیٹر پروفیسر ساجد میر 86 برس کی عمر میں سیالکوٹ میں انتقال کر گئے۔

 وہ گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور اسلام آباد میں مہروں کے آپریشن کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔ دس سال قبل ان کے دل میں اسٹنٹ بھی ڈالا گیا تھا۔پروفیسر ساجد میر 1938 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وہ گزشتہ 40 برس سے جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ سیاسی میدان میں ان کا سفر طویل اور باوقار رہا۔ وہ پانچ مرتبہ سینیٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے اور مسلم لیگ (ن) کے اہم اور قریبی رکن تصور کیے جاتے تھے۔ ان کا شمار میاں نواز شریف کے بااعتماد رفقا میں ہوتا تھا۔دینی تعلیم و تبلیغ کے ساتھ ساتھ ساجد میر ایک مصنف بھی تھے۔ ان کی کتاب "عیسائیت: ایک مطالعہ و تجزیہ" کو علمی حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی۔ ان کے سعودی شاہی خاندان سے بھی قریبی تعلقات تھے اور وہ شاہ عبد اللہ، شاہ سلمان اور محمد بن سلمان سے خصوصی مراسم رکھتے تھے۔

سیاسی تاریخ میں ان کی ایک جرات مندانہ مثال جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب میں تنہا مخالفت میں ووٹ دینا تھی، جو ان کی اصول پسندی کا عکاس ہے۔ وہ اسلام، جمہوریت اور آزادیِ اظہار کے پُرجوش داعی تھے۔کچھ روز قبل پروفیسر ساجد میر سیالکوٹ منتقل ہو گئے تھے جہاں انہوں نے آخری سانسیں لیں۔ ان کی نماز جنازہ سیالکوٹ میں ادا کی جائے گی۔ وہ ایک بیوہ، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔