پہلگام دہشت گردی واقعہ ’’را‘‘ کا کردار بے نقاب

 فرخ ریاض بٹ 
اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو اسلامی نظریہ حیات اور مسلم شناخت کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے اور اس کا یہی نظریہ اور شناخت دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہے چنانچہ یہ مملکت خداداد ہر وقت ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہتی ہے اور دشمن اسے نقصان پہنچانے اور کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت ہم پر یلغار کرنے کے عزائم سینے میں لیے مضطرب اور بے قرار ہے۔22 اپریل کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے لائن آف کنٹرول سے 230کلومیٹر دور واقع سیاحتی پہاڑی علاقے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں دو درجن سے زیادہ سیاحوں کی ہلاکت کا انسانیت سوز واقعہ کی تحقیقات کے بغیر فوری طور پر میڈیا کے ذریعے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا کر، دس منٹ میں ایف آئی آر درج کرکے، وار ہسٹیریا پر مبنی پروپیگنڈہ مہم چلا کر اور اگلے ہی روز سندھ طاس آبی معاہدہ معطل کرنے کے اعلان سمیت بھارت کی مودی سرکار نے جو کیفیت پیدا کی وہ کسی بھی طور پر دونوں ملکوں، خطّے اور عالمی امن کے حوالے سے سودمند نہیں کہی جاسکتی۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے موجود حالات بداعتمادی، تناو، ٹکراو اور ڈیڈ لاک میں نہ صرف مزید شدت سامنے آئی ہے بلکہ حالات نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے ماحول کو پیدا کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ واقعہ کے دس منٹ بعد ہی بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام عائد کر کے ظاہر کر دیا ہے اس کے الزامات پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کا حصہ تھے۔ اسی طرح اس واقعہ کے بعد بھارت نے فوری طور پر سفارتی سطح پر بہت سے اہم اقدامات پاکستان کی مخالفت میں اٹھائے ہیں جن سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک بڑا ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے۔ بھارت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں وہ پاکستان کو بھرپور جنگی جواب یعنی سرجیکل اسٹرائک کرے گا۔البتہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ کا کردار بے نقاب ہوگیا،سوشل میڈیا ایپلی کیشن ’’ٹیلی گرام‘‘ کے ذریعے خفیہ دستاویزات لیک ہوئی ہے، جو پہلگام حملے میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کا بھی واضح ثبوت ہے۔ دستاویزمیں دی گئی ہدایات اور منصوبے پر عملدرمد میں تضاد فالس فلیگ کا باعث بنا۔ان دستاویز میں ہدایت دی گئی کہ پاکستان مخالف بیانیہ میڈیا پر 36 گھنٹے کے بعد بنانا ہے، آئی ایس آئی پر یہ الزام 36 گھنٹے کے بعد ڈالنا ہے جبکہ میڈیا نے فالز فلیگ آپریشن کا فوری الزام پاکستان پر عائد کر کے منصوبہ خراب کر دیا۔اس دستاویز اور ان تضادات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کو بھی کوئی ہدایات دیتا ہے، دستاویز کا یوں سوشل میڈیا پر آنا ’’را‘‘ کے اندر ہندوتوا مخالف سوچ کا بھی شاخسانہ لگتا ہے۔
پہلگام واقعہ کے بعد بھارت کے میڈیا کا طرز عمل بہت زیادہ غیر ذمے دارنہ ثابت ہوا ہے اور وہ حالات کو سدھارنے کے بجائے معاملات کو بہت زیادہ بگاڑ کر جنگ کا ماحول بنا رہا ہے۔ امریکا اور چین نے واضح طور پر دہلی اور اسلام آباد کو پیغام دیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی قسم کی جنگی جنونیت سے گریز کیا جائے۔ مسئلہ صرف عملی طور پر پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں بلکہ حالات کی خرابی میں یا جنگ مجموعی طور پر خطے میں ایک بڑے عدم استحکام کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے حالات کی کشیدگی یا جنگی ماحول دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے اور دونوں ملکوں کو مفاہمت اور بات چیت کا راستہ کھول کر جنگ سے گریز کرنا چاہیے۔ لیکن مودی حکومت کا مسئلہ یہ ہے اس کی سیاسی ترجیحات میں پاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا شامل نہیں ہے اور اس کی مجموعی سیاست پاکستان اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کا مجموعی رویہ ان حالات میںکسی بھی صورت میں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ سخت اور شدت پسندی پر مبنی ہے۔ ایسے لگتا ہے پہلگام واقعہ کو بنیاد بنا کر بھارت پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر ایک بڑا دباؤ پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کو سفارتی سطح پر نہ صرف تنہا کیا جائے بلکہ اسے داخلی محاذ پر مزید عدم استحکام سے دوچار کیا جائے۔ پہلے ہی پاکستان یہ الزامات عائد کر چکا ہے کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے اور خیبر پختون خوا میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں بھی بھارت کسی نہ کسی سطح پر ملوث ہے۔ اب فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے بھارت کے ایک جاسوسی نیٹ ورک کو پکڑا ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ اس پریس کانفرنس میں آئی ایس پی آر نے باقاعدہ شواہد کے ساتھ وہ تمام ثبوت پیش کیے ہیں جو بھارت کے خلاف جاتے ہیں۔ لیکن بھارت بڑی ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کی مخالفت میں کھڑا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ جنگی جنون کو پیدا کرنا اس کی سیاسی ترجیحات کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ صورتحال میں اعتماد سازی کے ماحول کا پیدا ہونا کسی بھی صورت میں آسان نہیں ہوگا۔اس ماحول کو پیدا کرنے اور بالخصوص بھارت کو جنگی عزائم سے روکنے میں بڑی طاقتوں بالخصوص عملاً امریکا اور چین کو بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کیونکہ جب تک یہ دونوں بڑے ممالک آگے بڑھ کر حالات کی کشیدگی کو کم کرنے میں عملی طور پرکوئی بڑا کردار ادا نہیں کریں گے معاملات کی بہتری کہ امکانات محدود ہوں گے۔ اس لیے محض لفظوں تک ان دونوں بڑے ممالک کو اپنے کردار میں خود کو محدود نہیں کرنا بلکہ اس کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے ان غیر معمولی حالات میں غیر معمولی کردار اد ا کرنا ہوگا کیونکہ یہ ہی وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ممالک ہیں اور اس کی موجودگی میں جنگ کا ماحول پیدا کرنا یا جنگ لڑنا دونوں ممالک کو بہت پیچھے کی طرف لے کر جائے گا ،  بھارت کو پہلگام واقعہ پر اپنے داخلی محاذ کا بھی تجزیہ کرنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ اس واقعہ میں ان کی پوری سیکورٹی کا نظام کیونکرناکام ہوا ہے۔