یہ سکیورٹی عہدیدار کا بیان ایک تفصیلی اور اہم پیغام ہے جس میں پاکستان کی علاقائی اور داخلی سیکیورٹی، خارجہ پالیسی، اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے۔ درج ذیل میں اس بیان کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے:
افغان طالبان سے متعلق موقف اور اقدامات:
افغان طالبان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جب تک افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری ترک کرنے کی یقین دہانی نہیں کراتی، آپریشنز جاری رہیں گے۔افغان طالبان حکومت پر الزام ہے کہ وہ خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے، اور جنگی معیشت کو مذہبی نظریے کے نام پر فروغ دے رہی ہے۔پاکستان دہشت گردوں کے محفوظ پناہ گاہوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے، اور اس کا مقصد صرف ان عناصر کو نشانہ بنانا ہے جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گرد گروہوں کے انفراسٹرکچر اور تنصیبات پر مرکوز ہیں، اور اندرونی سکیورٹی میں فوج کی شمولیت حکومتی اداروں کے ناکام کردار اور سیکیورٹی کے خلا کی وجہ سے ہے۔
پاکستان کی علاقائی اور بین الاقوامی پالیسی:
پاکستان ایران کے ساتھ متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور ایران نے پاکستان کے ردعمل کو سراہا ہے، جس کی تائید چین اور روس نے بھی کی ہے۔پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں، اور ایک پرامن اور مستحکم ایران کا خواہاں ہے۔پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو مضبوط اور تعمیری روابط پر مبنی قرار دیتا ہے، اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر تعلقات رکھتا ہے۔پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع مکمل طور پر کرتا ہے، اور حالیہ جنگوں اور دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد کا ذکر کیا ہے، اور اپنی مسلح افواج کی کارکردگی پر فخر کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کی داخلی صورتحال اور سیاسی امور:
پاکستان اندرونی امن و امان کے قیام کے لیے سیاسی جماعتوں اور حکومتوں سے مؤثر حکمرانی کا مطالبہ کرتا ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کو ضروری قرار دیتا ہے۔سیکیورٹی اداروں اور فوج کا سیاست سے کوئی مفاد نہیں، اور وہ صرف ملکی سلامتی کے لیے کام کر رہے ہیں۔اندرونی عناصر کی جانب سے پروپیگنڈہ اور غلط فہمیوں کی سخت مذمت کی گئی ہے، اور بتایا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) سے متعلق تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، اور پاکستان اس میں اپنی شرکت کا فیصلہ مکمل جائزہ لینے کے بعد کرے گا۔
ملک گیر احتجاج اور تشویش:
پاکستان نے ایران میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر احتجاج کی آڑ میں تشدد ناقابل قبول ہے، اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے قانون کا احترام ضروری ہے، اور شرپسند عناصر کو معصوم عوام اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مجموعی طور پر، یہ بیان پاکستان کی علاقائی، داخلی، اور خارجہ پالیسی کے عزم، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ، اور علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا واضح پیغام ہے۔