کیا مشرق وسطی میں کشیدگی کی وجہ بلڈ مون ہے؟ قیاس آرائیاں

لندن (آئی ای ن پی) ایران پر امریکا اور اسرائیل کا حملہ ہوتے ہی سوشل میڈیا پر مختلف قسم کی قیاس آرائیاں ہونا شروع ہو گئیں۔سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو آسمان پر رونما ہونے والے نایاب بلڈ مون سے جوڑ رہے ہیں۔بلڈ مون کو مشرقِ وسطی میں کشیدگی سے جوڑنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ 2026 کا پہلا چاند گرہن یہودیوں کے پوریم اور روش ہشاناہ جیسے اہم تہواروں کے قریب ہو گا۔ایسے خیالات رکھنے والے لوگوں کا دعوی ہے کہ ایران و اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور بلڈ مون کے اوقات کا ملنا علاقائی تنازعات سے متعلق قدیم پیش گوئیوں کو پورا کر سکتا ہے۔بلڈ مون کو مشرقِ وسطی میں کشیدگی سے جوڑنے والے لوگ اسے سرخ بچھیا (Red Heifer) کی تلاش سے بھی جوڑ رہے ہیں۔دراصل بلڈ مون کے بارے میں کئی قدیم ثقافتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے یہی خیال رکھتے آئے ہیں کہ یہ پراسرار انداز میں منفی طاقتوں کو اکساتا ہے اور یروشلم میں تو اسے مخصوص مذہبی خواہشات کے لیے شرط سمجھا جاتا ہے اس لیے وہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے اہم علاقائی مضمرات ہوں گے