امجد علی
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بارود کی بارش کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکی نگرانی کے جدید ڈرون MQ-4C Triton کے ایرانی حدود کے قریب ریڈار سے غائب ہونے کے بعد حالات نے تیزی سے کروٹ لی، اور پھر United States اور Israel نے مشترکہ طور پر ایران کے حساس عسکری و تزویراتی مراکز پر فضائی اور میزائل حملے کیے۔ ان حملوں کا ہدف مبینہ طور پر ایران کا دفاعی سٹرکچر اور وہ تنصیبات تھیں جنہیں مغرب ایران کے جوہری پروگرام سے جوڑتا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق متعدد مقامات کو نقصان پہنچا، فضائی دفاعی نظام حرکت میں آیا اور خطے میں پروازیں معطل ہوئیں۔ اگرچہ مکمل جانی نقصان کے اعداد و شمار واضح نہیں، مگر یہ طے ہے کہ اس کارروائی نے خطے میں عدم استحکام کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس کشیدگی کا پس منظر محض ایک ڈرون واقعہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط بداعتمادی، پابندیوں اور جوہری تنازع سے جڑا ہوا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر مغرب کو طویل عرصے سے اعتراض رہا ہے، خصوصاً 2015 کے جوہری معاہدے Joint Comprehensive Plan of Action سے امریکی علیحدگی کے بعد تناؤ میں مسلسل اضافہ ہوا۔ حالانکہ یہ قطعاً نامناسب تقاضا ہے کہ ایٹمی اسلحہ سے لیس ممالک (جو تمام کمزور ممالک کو اپنے مضبوط پنجوں کی گرفت میں جکڑے رکھنا چاہتے ہیں) ان کو اعتراض ہے کہ کمزور ملک اگر ایٹمی صلاحیت حاصل کر لیں گے تو سپر پاورز کی تسلطی طاقت کے ختم ہونے کا اندیشہ ہے اور وہ ہرگز یہ برداشت نہیں کریں گے۔ اسی مقصد کے دفاع کے لیے واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ تہران خطے میں پراکسی نیٹ ورکس اور میزائل پروگرام کے ذریعے طاقت کا توازن بدلنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری اور دفاعی حق قرار دیتا ہے، جس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔ حالیہ حملوں کے پس پردہ مقاصد میں ایران کی عسکری صلاحیت محدود کرنا، اسے جوہری پیش رفت سے روکنا اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ اور ہوائی تسلط برقرار رکھنا شامل ہیں۔ تقریبآ دو ڈھائی دھائیوں سے معاشی پابندیاں بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ کیا یہ یہود نصارہ کا ازلی اینٹی مسلم گڑھ جوڑ نہیں؟
ایران نے اس کارروائی کے جواب میں تاخیر نہیں کی۔ تاہم ان ممالک کی مجبوری و بے بسی ہے کہ وہ اپنے کم رینج میزائلز کی وجہ سے اپنے اوپر کئے گئے حملہ آور کو اس کے ملک میں کسی اہم تنصیب کو ٹارگٹ کر کے جواب نہیں دے سکتے۔ البتہ پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ خلیجی خطے میں تعینات امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں کچھ کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا۔ اس سے کچھ نقصانات کی بھی غیر مصدقہ اطلاع ہیں۔ ایرانی قیادت نے اسے ‘‘محدود مگر فیصلہ کن پیغام’’ قرار دیا، جس کا مقصد براہ راست جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ طاقت کا توازن دکھانا تھا۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک ایران کی حکمت عملی روایتی جنگ کی بجائے دباؤ، باز deterrence اور علاقائی اتحادیوں کے ذریعے بالواسطہ جواب دینے کی رہی ہے۔ تاہم یہ خطرہ بدستور موجود ہے کہ کسی ایک غلط اندازے سے یہ محدود جھڑپ وسیع علاقے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ویزویلہ کے وینچر کے بعد اب امریکی قیادت نے ناپسندیدہ ممالک میں فوری رجیم چینج کے لیے ہر قسم کی طاقت کے استعمال کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ اپنے مقاصد کی راہ میں حائل ہونے والوں کو وہ ہمیشہ بلڈوزر کرتے ہیں خواہ یوکرائن ہو، وینزویلا ہو یا ایران۔
عالمی سطح پر ردعمل محتاط اور فکرمندانہ ہے۔ یورپی ممالک نے روائتی انداز میں لپ سروسز دیتے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ اپنانے پر زور دیا ہے، جبکہ خلیجی ریاستیں اپنی سرزمین کو جنگی میدان بننے سے بچانے کی کوشش میں ہیں۔ United Nations نے فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے معاشی بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔ روس اور چین نے یکطرفہ فوجی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مجموعی منظرنامہ یہ بتاتا ہے کہ یہ محض دو ریاستوں کا تصادم نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کی کشمکش بھی ہے۔ ساتھ ہی یہ کاروائی کسی اور اندرون خانہ کاروائی بشمول ایپسٹین فائلز یا کوئی اور ہائی ٹارگٹ مشن وغیرہ سے یکسر مرکز توجہ منتقل کرنے کا کور ایکشن بھی ہو سکتی ہے ایران پر حملے سے قبل پاکستان کا افغانستان میں اینگیج ہونا بھی کسی اسٹریٹیجی سے خالی نہیں لگ رہا۔۔
امریکی ڈرون کی ایران میں گمشدگی کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ اگرچہ اب تک دونوں ممالک کے کسی سرکاری ذریعے نے اس امر کی باضابطہ تصدیق نہیں کی کہ ڈرون کو ایرانی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا، تاہم اس خاموشی کے پس منظر میں کئی سوالات سر اٹھا رہے ہیں۔ اگر واقعی ایران نے اسے ٹارگٹ کیا ہے تو یہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح اور دوٹوک پیغام ہوگا، ایسا پیغام جو بڑی طاقتوں کی ممکنہ درپردہ حمایت کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہ منظرنامہ عالمی امن کے افق پر پہلے سے گہرے ہوتے بادلوں کو مزید سیاہ کر سکتا ہے۔ یکم مارچ کو اسرائیلی حملہ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر سے پورے ایران میں گہرے سوگ کا سماں ہے۔ ایرانی قوم کے لیے یہاں یہ رنج و غم کی گھڑی ہے وہیں امریکہ و اسرائیل کی دیرینہ رجیم چینج خواہش کا راستہ بھی ہموار کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ شہادت کسی بڑی خونریزی کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے یہ امریکہ اسرائیل کے ایران کے خلاف متحدہ گٹھ جوڑ کا ایک اور نتیجہ ہے۔ مسلمہ امہ کے اکابرین کییے لمحہ فکریہ ہے کہ سکونی شازشی۔قتدر قوتیں اس قدر پریسائز ٹریکنگ اور اٹیک کیسے کرتے ہیں۔ یہ غنڈی گردہ کی انتہا ہے کہ آپ کسی بھی ملک کو اپنی مرضی و منشاء کے مطابق ڑندہ رہنے پر مجبور کیا جائے۔ ورنہ اس کے گھر گھس کر تمام ٹاپ قیادت کا قتل عام کر دیا جائے۔ ابھی امریکہ، اسرائیلی حملے جاری ہیں اور مزید شہادتوں کی غیر مصدقہ خبریں بھی آ رہی ہیں
خطے کی تاریخ شاہد ہے کہ جنگ کا آغاز عموماً ایک چھوٹے واقعے یا چنگاری سے ہوتا ہے، مگر اس کا انجام نسلوں تک پھیلتے عدم استحکام میں بدل
جاتا ہے۔ اگر سفارت کاری نے فوری اور مؤثر کردار ادا نہ کیا تو ایک ڈرون کا غائب ہونا، جس پر امریکہ طلملا اٹھا ہے، عالمی سیاست کے سمندر میں ایسے طوفان کو جنم دے سکتا ہے جس سے جنم لینے والی تباہی سرحدوں، معیشتوں اور عالمی اتحادوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ایسے نازک موڑ پر دانش، تحمل اور مکالمہ ہی وہ راستے ہیں جو دنیا کو ایک بڑے تصادم سے بچا سکتے ہیں۔
ابھی یکم مارچ کو ہونے والی ڈویلپمنٹس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے آبنائے ہرمز اگر بند کی جاتی ہے تو پیڑول بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ جس کے اثرات پوری دنیا دیکھے گی۔ اس سب سے زیادہ خطرناک مسلمہ امہ کا منتشر ہونا ہے۔ ہمارا منتشر رہنا دشمن کو پیش قدمی کا حوصلہ دے رہا ہے۔ ایک ایک کر کے ہر دس سال میں وہ ایک آدھ مسلم ملک کی بینڈ بناتا ہے آزادی کے نام پر کوئی ڈمی بگوڑا بکاؤ وزیراعظم بیٹھا دیتا ہے جو ملکی وسائل ان کے حوالے کر کے اپنی کرسی کا قیمت ادا کرتا ہے۔
ایران کی جنگ دراصل پرانی مسلم اور یہود کی مسلسل دشمنی کا نتیجہ ہے اگر اسرائیل کے دانت کھٹے نہ ہوئے تو یہ خدا نا خواستہ پاکستان کی طرف بھی بڑھے گا۔ اگر آپ بھول نہیں رہے تو پلوامہ اٹیک میں انڈیا کے ساتھ اسرائیلی ڈرون بھی پاکستان میں سرویلینس کر رہے تھے۔
اب جب کہ جو نقصان ہونا تھا ہو چکا، دانش مندی اسی میں ہے کہ اسی حد پر اکتفا کیا جائے اور مفاہمت کو راستہ دیا جائے۔ کشیدگی کی آگ کو مزید ہوا دینا کسی کے مفاد میں نہیں۔ تاریخ بارہا یہ سبق دے چکی ہے کہ جنگ کا دروازہ کھولنا آسان، مگر اسے بند کرنا نہایت دشوار ہوتا ہے۔ اس مقام پر مسلم اقوام کا اکٹھے مل بیٹھ کر ایران کے لیے متحدہ بیانیہ بنانا بہت اہم ہے۔ صد افسوس کہ جنگوں کے حقیقی مقاصد اور ان کا پیش کردہ بیانیہ اکثر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اگر جذباتی نعروں اور سیاسی تعبیرات کو الگ کر دیا جائے تو بہت سی جنگیں محض طاقت کے توازن، دشمن کی صلاحیت کے غلط اندازے، یا کسی ایک کارروائی کی مس کیلکولیشن تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔ حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو بڑے تصادم اکثر انا، خوف اور برتری کے کھیل کا نتیجہ بن کے رہ جاتے ہیں۔
آخرکار یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ سپر پاورز کائنات کی تعمیر، انسانی فلاح اور اجتماعی استحکام کے لیے اپنی صلاحیتیں کیوں صرف نہیں کرتیں؟ کیوں وسائل اور قوت کا بڑا حصہ تسلط، دباؤ اور تباہی کی سیاست میں جھونک دیا جاتا ہے؟ زمینی حقائق یہی اشارہ کرتے ہیں کہ جنگیں عموماً انصاف یا امن کے نام پر لڑی ضرور جاتی ہیں، مگر ان کی تہہ میں طاقت کے تحفظ، اثر و رسوخ کے پھیلاؤ، اور پاور ہاؤسز کی بقا کا منطق کارفرما ہوتا ہے۔ ایسے میں انسانیت کی اصل جیت اسی دن ہوگی جب طاقت کا استعمال غلبے کے لیے نہیں بلکہ توازن اور انسانی تعمیر و ترقی کے لیے کیا جائے۔ ہم جو بھی کہیں پاور بلائنڈ ہوتی ہے آخر میں مرزا غالب کا شعر موجودہ عالمی سیاست پر عجیب طرح صادق آتا ہے
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
واقعی، طاقت کے اس کھیل میں سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ ستارے چمکتے ہیں، کچھ اوجھل رہتے ہیں—اور اصل
حقیقت اکثر پردہ اسباب کے پیچھے چھپی رہتی ہے۔