کیونکہ عدالت نے آزادیٔ اظہار اور اخلاقیات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ رنویر الہ آبادیہ کو دوبارہ پوڈکاسٹ نشر کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، لیکن انہیں اخلاقی معیارات کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔
کیس کا پسِ منظر
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب رنویر نے ایک کامیڈی شو میں نازیبا سوال کیا، جس پر مختلف ریاستوں میں ان کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ اس کے بعد عدالت نے عبوری پابندی عائد کر دی، جس کے باعث ان کا پوڈکاسٹ بند ہوگیا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ
پابندی ہٹانے کا حکم: جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کے بینچ نے فیصلہ دیا کہ رنویر اپنا پوڈکاسٹ چلا سکتے ہیں، لیکن مواد میں شائستگی کو برقرار رکھنا ہوگا۔
ملازمین کی روزی روٹی کا پہلو: عدالت نے تسلیم کیا کہ 280 سے زائد افراد کا روزگار اس پلیٹ فارم سے وابستہ ہے، لہٰذا مکمل پابندی غیر منصفانہ ہوگی۔
ریاستی موقف: ریاستی وکیل تشار مہتا نے دلیل دی کہ رنویر نے آسام پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کیا، اس لیے انہیں کچھ عرصہ مزید خاموش رہنے دیا جائے۔ تاہم، عدالت نے اسے مسترد کردیا۔حکومت کو ضابطہ کار کی ہدایت: عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ آن لائن مواد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیا ضابطہ بنایا جائے، جو آزادیٔ اظہار کو محدود کیے بغیر معیاری کنٹرول فراہم کرے۔
قانونی پیچیدگیاں
رنویر کو اب بھی کچھ ریاستوں میں قانونی کارروائی کا سامنا ہے، اور انہیں خواتین کے قومی کمیشن اور پارلیمانی پینل کے سامنے بھی پیش ہونا پڑ سکتا ہے۔
نتیجہ
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بظاہر رنویر کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اس کے ساتھ انہیں محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ عدالت نے واضح طور پر غیر اخلاقی زبان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ رنویر اپنے مواد میں کتنی تبدیلیاں کرتے ہیں اور حکومت آن لائن مواد کے حوالے سے کیا اقدامات کرتی ہے۔