لندن میں برطانوی شاہی خاندان کی مصروفیات میں اہم تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں شاہ چارلس سوم کے کینسر کے علاج کے باعث ان کی عوامی سرگرمیوں میں نمایاں کمی کے بعد شہزادہ ولیم شاہی ذمہ داریوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ چارلس اپنی طبیعت کے باعث عوامی مصروفیات محدود کر رہے ہیں، تاہم وہ ریاستی امور سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوئے۔ وہ اب بھی اہم سرکاری دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں اور وزیرِاعظم کے ساتھ بریفنگز میں شریک ہوتے ہیں، تاہم ان کی زیادہ تر عوامی ذمہ داریاں عارضی طور پر کم کر دی گئی ہیں۔اس صورتحال میں شہزادہ ولیم، جو پرنس آف ویلز ہیں، شاہی خاندان کی روزمرہ ذمہ داریوں اور اہم تقریبات میں نمایاں طور پر آگے آئے ہیں۔ وہ مختلف سرکاری تقریبات کی قیادت کر رہے ہیں اور برطانوی شاہی خاندان کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں، جس کے باعث انہیں غیر رسمی طور پر مستقبل کی بادشاہت کے اہم ترین امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مبصرین کے مطابق 41 سالہ شہزادہ ولیم نہ صرف ریاستی ذمہ داریوں میں فعال ہیں بلکہ اپنی نجی زندگی اور خاندان کی ذمہ داریاں بھی ساتھ نبھا رہے ہیں۔ اسی بنا پر بعض تجزیہ کار انہیں “شیڈو کنگ” کے طور پر بھی بیان کر رہے ہیں، تاہم یہ اصطلاح غیر رسمی اور تجزیاتی حلقوں میں استعمال کی جا رہی ہے۔اس سے قبل شہزادی کیٹ مڈلٹن کی سرجری اور صحتیابی کے دوران بھی شہزادہ ولیم نے کچھ عرصے کے لیے اپنی مصروفیات میں کمی کی تھی، لیکن اب وہ دوبارہ مکمل طور پر شاہی فرائض میں سرگرم ہیں اور ونڈسر کیسل سمیت مختلف اہم شاہی تقریبات میں قیادت کر رہے ہیں۔
شاہی تاریخ کی ماہر پروفیسر چندریکا کول کے مطابق شہزادہ ولیم بطور پرنس آف ویلز اپنی مضبوط شناخت قائم کر رہے ہیں اور عوامی سطح پر انہیں مستقبل کے بادشاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔دوسری جانب شاہی خاندان کے دیگر سینئر اراکین، جن میں ملکہ کمیلا اور شہزادی این شامل ہیں، بھی اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں تاکہ شاہی نظام کی تسلسل کے ساتھ فعالیت برقرار رہے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتحال کے دوران شاہی خاندان کے اندرونی روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں، اور شہزادہ ہیری نے بھی اپنے والد سے ملاقات کے لیے برطانیہ کا دورہ کیا تھا۔