وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔
فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ حکومت 2026-27 کا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کی حکومت بانی پی ٹی آئی کی ہے کیونکہ صوبے کے عوام نے انہیں ووٹ دیا اور وہی ان کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ بجٹ بانی پی ٹی آئی کی خواہشات اور ہدایات کے مطابق تیار کیا جائے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے ان کی اور وزیر خزانہ کی ملاقات کرائی جائے تاکہ بانی پی ٹی آئی سے بجٹ کی منظوری لی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جائے گی اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ ان کے مطابق آج بھی بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے پی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب کی “جعلی حکومت” اور جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا، جبکہ ملاقاتوں پر پابندی کے باعث عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے، اس لیے یہ ان کا حق ہے کہ بجٹ ان کی مرضی کے مطابق بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف بانی پی ٹی آئی ہی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو تبدیل کر سکتے ہیں، کسی اور میں یہ جرات نہیں۔محسن نقوی سے ملاقات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہ ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی تھی۔ افغانستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب کیے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ صوبائی بجٹ میں بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کے مطابق سوشل ویلفیئر، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
کرپشن کے الزامات پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہر شخص کرپشن کی بات کرتا ہے، لیکن انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے کھلے رکھے ہیں، اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائے جائیں۔