بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا:بھارتی میڈیا

 کرناٹک(آن لائن)بھارتی ریاست کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب کے معاملے پر ایک بار پھر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ بھارتی جریدے انڈیا ٹو ڈے کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے حجاب پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد بعض ہندو تنظیموں نے ''سیفرون شال'' مہم شروع کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق شری رام سینا اور دیگر ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے مختلف تعلیمی اداروں میں طلبہ کے درمیان زعفرانی شالیں تقسیم کیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حجاب کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا جا رہا ہے۔انڈیا ٹو ڈے کے مطابق کانگریس حکومت کے فیصلے کے بعد 2022 میں سابق بی جے پی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں حجاب پر عائد پابندی ختم کر دی گئی تھی۔ اس فیصلے پر بی جے پی نے کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ووٹ بینک کی سیاست کا الزام عائد کیا ہے۔واضح رہے کہ 2022 میں کرناٹک کے ایک تعلیمی ادارے میں حجاب پہننے والی مسلم طالبہ کے خلاف بعض افراد کی جانب سے نعرے بازی کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا، جس نے ملک بھر میں مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے حوالے سے بحث کو جنم دیا تھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی علامات اور لباس سے متعلق تنازعات سیاسی اور سماجی مباحث کا اہم حصہ بن چکے ہیں، جبکہ مختلف حلقے مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دے رہے ہیں