یکم جولائی سے پٹرولیم لیوی بڑھائے جانے کا امکان‘، سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا
بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کیلئے ٹیکس استثنیٰ ختم کئے جانے کا امکان ‘کھانے پینے کی بنیادی اشیاء پر بھاری ٹیکس کم نہ ہونے کا امکان
بجلی سبسڈی میں 20 فیصد کمی، حجم 830 ارب تک محدود رکھنے کی تجویز‘غیر ہدفی سبسڈیز کے خاتمے اور گردشی قرضہ کنٹرول میں رکھنے کا پلان
اسلام آباد (آئی این پی) آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جس میں سرکاری آمدنی بڑھانے کے لیے جہاں متعدد روایتی اشیا پر ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، وہاں پہلی بار کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کرنے اور اسے دستاویزی بنانے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے.ذرائع کے مطابق حکومت ایک ایسا ٹیکسیشن فریم ورک یا قانونی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے جس سے ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے کو ریگولیٹ کیا جا سکے اور ملک میں محفوظ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے.اس نئی پالیسی کے تحت کرپٹو کرنسی کے سودوں کی کل رقم، اس سے حاصل ہونے والے منافع اور صارفین کے ڈیجیٹل اثاثوں پر ٹیکس لگانے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔نئے بجٹ میں عوام پر 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سکیم لانے کی تجاویز ہیں، سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔ وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ بجٹ میں عوام کو اشیائے خورونوش پر بڑے پیمانے پر ریلیف ملنے کا امکان کم نظر آ رہا ہے۔ حکام کے مطابق حکومت نے کھانے پینے کی بنیادی اشیا پر عائد سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور دیگر محصولات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا بدستور مہنگی رہ سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 2026 میں عام صارفین کو روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں فوری ریلیف ملنے کے امکانات محدود ہو گئے ہیںآئندہ مالی سال 27-2026 کے دوران 20 لاکھ ملازمتیں پیداکرنے کا ہدف مقررکیا گیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ 30 جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران 18 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے گئے۔سرکاری دستاویزکے مطابق آئندہ مالی سال خدمات کے شعبے میں11 لاکھ، صنعتی شعبے میں 5 لاکھ اورزرعی شعبے میں4 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے‘حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں پاور سیکٹر کی سبسڈی میں نمایاں کمی کی تجویز تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی سبسڈی کا مجموعی حجم 20 فیصد کم کرکے 830 ارب روپے تک محدود رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جو حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان طے پانے والے اصلاحاتی پروگرام کا اہم حصہ ہے