9 مئی کے مقدمات: ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانتیں مسترد کر دیں، تحریری فیصلہ جاری

9 مئی کے مقدمات: ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ضمانتیں مسترد کر دیں، تحریری فیصلہ جاری

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے 9 مئی کے واقعات سے متعلق آٹھ مقدمات میں دائر کی گئی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنایا۔ سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ تمام آٹھوں مقدمات ممنوعہ جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور ان پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کا اطلاق ہوتا ہے۔

تحقیقات جاری، ضمانت قبل از گرفتاری کا مؤقف ناقابل قبول
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان مقدمات میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے، اور اس وقت ضمانت دینا ممکن نہیں کیونکہ بظاہر بانی پی ٹی آئی نے تفتیشی عمل میں تعاون نہیں کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تفتیشی ادارے درخواست گزار کا پولی گرافک ٹیسٹ، فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرانے کی اجازت پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں، اس لیے ان ٹیسٹوں کی تکمیل تک ضمانت کا فیصلہ قبل از وقت ہوگا۔

درخواست گزار کی نمائندگی اور کیسز کی نوعیت
عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی معروف وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کی، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کے خلاف درج مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم عدالت نے ان دلائل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کیا۔درخواست گزار نے ضمانت کے لیے جن کیسز سے رجوع کیا تھا ان میں جناح ہاؤس حملہ کیس بھی شامل ہے، جو 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر مبینہ حملوں سے متعلق درج ہوا تھا۔

پس منظر: 9 مئی کے واقعات اور سیاسی اثرات
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جن میں جناح ہاؤس، کور کمانڈر ہاؤس لاہور، اور دیگر عسکری و سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنما گرفتار ہوئے اور جماعت کو سنگین قانونی و سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔