لاہور: الیکشن ٹریبونل نے وفاقی وزیر اور سینئر سیاستدان عبدالعلیم خان کے حق میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 117 سے ان کی کامیابی کے خلاف دائر انتخابی عذرداری خارج کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن برقرار، نشست محفوظ
الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس سلطان تنویر احمد نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عبدالعلیم خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن برقرار رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد عبدالعلیم خان کی قومی اسمبلی کی نشست محفوظ ہو گئی ہے اور ان کے پارلیمانی عہدے پر کوئی قانونی خطرہ باقی نہیں رہا۔
پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار کی درخواست مسترد
یہ انتخابی پٹیشن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار علی اعجاز کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں انہوں نے حلقہ این اے 117 کے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا تھا۔عدالت میں پیش کیے گئے دلائل اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد جسٹس سلطان تنویر احمد نے قرار دیا کہ:"پٹیشن میں انتخابی دھاندلی یا بے ضابطگی سے متعلق ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد پیش نہیں کیے گئے، اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔"
سیاسی اہمیت کا حامل فیصلہ
یہ فیصلہ سیاسی طور پر نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ عبدالعلیم خان موجودہ حکومت میں اہم وزارت کے قلمدان پر فائز ہیں اور ان کا تعلق اتحاد میں شامل اہم جماعت پاکستان عوامی اتحاد سے ہے۔ ان کے خلاف دائر انتخابی درخواست کی مستردی نے ان کی سیاسی پوزیشن کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
پس منظر
الیکشن 2024 میں عبدالعلیم خان نے لاہور کے حلقہ این اے 117 سے کامیابی حاصل کی تھی، جس پر پی ٹی آئی کے حامی امیدوار علی اعجاز نے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے دھاندلی اور غیر منصفانہ انتخابی عمل کا الزام عائد کیا تھا۔الیکشن ٹریبونل نے متعدد سماعتوں کے بعد دلائل، ثبوت اور انتخابی ریکارڈ کا جائزہ لیا اور آخرکار فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ علی اعجاز کی جانب سے فراہم کردہ شواہد ناکافی اور غیر تسلی بخش ہیں۔
عبدالعلیم خان کا ردعمل
فیصلے کے بعد عبدالعلیم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:"عدلیہ پر مکمل اعتماد تھا اور حق و سچ کی جیت ہوئی۔ یہ فیصلہ میرے حلقے کے عوام کی فتح ہے جنہوں نے مجھے اپنے اعتماد سے نوازا۔"
سیاسی تجزیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف عبدالعلیم خان کی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے بلکہ آئندہ سیاسی منظرنامے میں حلقہ این اے 117 میں ان کی پوزیشن مزید مستحکم کر دے گا۔