مسرور احمد مسرور
پاکستان کی عوام سالہا سال سے طرح طرح کے مسائل کا شکار ہے اور ان کے پاس ان مسائل سے چھٹکارا پانے کا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ اس ملک کے کرپٹ ترین سیاسی نظام نے اس طرح سے پنجے گاڑھ رکھے ہیں کہ عوام اس نظام کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آتے ہیں۔ سیاست پر پوری طرح چند خاندان چھا ئے ہوئے ہیں جو ایک دوسرے کی سیاست کا تحفظ کرتے ہوئے باریاں لگاتے ہیں۔ ان کے سامنے غریب عوام کے مسائل کے حل کے لیے کوئی فارمولا نہیں ہے وہ اپنی جیبیں بھرنے، اپنی اولادوں کو سیاسی نظام کا حصہ بنانے اور اقتدار میں لانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ یہ سیاسی خاندان پھل پھول رہے ہیں، ان کے بزنس زبردست طریقے سے ترقی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ملک میں نام نہاد جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اس ملک کو بری طرح لوٹا جا رہا ہے، قرضوں کا بوجھ اور اس پر اربوں ڈالرز کے سود کی ادائیگیوں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ان سیاسی نوسر بازوں کی پوری دنیا میں اربوں کھربوں کی جائیدادوں کی تفصیلات کئی بار منظر عام پر لائی جا چکی ہیں لیکن اس نہایت ہی مضبوط سیاسی مافیا کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا ملک میں اسمبلیاں موجود ہیں جن میں بیٹھے سیکڑوں ارکان کی عیاشیاں لگی ہوئی ہیں اربوں روپے مراعات کی شکل میں ان اسمبلیوں کے ارکان پر خرچ ہو رہے ہیں۔ آج تک ان قانون ساز اداروں نے کوئی ایسا قانون پاس نہیں کیا، جو عوام کے مفاد میں ہو۔ غریب طبقہ بجلی، پانی اور گیس کی شدید کمی کے باعث سخت پریشانیوں کا سامنا کر رہا ہے، ان کے مسائل کو سننے والا اور انھیں حل کرنے والا دور دور تک نظر نہیں آتا۔ البتہ اشرافیہ کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔ اس صورت حال سے 25 کروڑ عوام ماسوائے اشرافیہ اور سیاسی خاندانوں کے سب بہت زیادہ مایوس ہیں۔ لیکن حال ہی میں ملک کے وزیر داخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے فرمودات کے بعد عوام کو روشنی کی ایک رمق نظر آئی ہے اور خدا کرے کہ جو کچھ سوچا سمجھا گیا ہے اس پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہوتا نظر آ جائے تو پوری قوم فیصلہ ساز لوگوں کے اس اقدام پر صحیح معنوں میں جشن منائے گی اگرچہ کہ یہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ دونوں سیاسی خاندان جو سالوں سے اس سیاسی نظام پر قابض ہیں وہ عوام کے مفاد میں کیئے جانے والے فیصلوں کے سامنے رکاوٹ بننے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان پچاس ساٹھ سال ہو گئے چار صوبوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں آگے جانے کے بجائے پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ پاکستان میں مزید صوبوں کا قیام ایک ایسی ضرورت ہے جسے کسی طرح بھی نظرانداز کرنا ملک کی ترقی سے دشمنی کے مترادف ہے۔ جب چار صوبے تھے آبادی ساڑھے چھ یا سات کروڑ تھی، آج آبادی بڑھ کر 25 کروڑ یا اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے چاروں صوبوں میں انتظامی معاملات سنبھالے نہیں جا رہے۔ اس لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے۔ ہمارے وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے۔ یعنی فلاپ ہو چکا ہے اور اس نظام کو صحیح سمت میں گامزن کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر صوبوں کے قیام کے منصوبے پر مکمل رضامندی ظاہر کرنا ہوگی نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔ انھوں نے صوبوں کی مخالفت کرنے والی سیاسی قوتوں کو خبردار بھی کیا کہ بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کی طرح ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
صوبوں کا قیام عوام کے مفادات کے تحفظ کا فیصلہ ہے البتہ سیاسی خاندانوں کے لیے ان کی اجارہ داری کے خاتمے کا معاملہ ہے وہ کس طرح اس فیصلے کو پایہ تکمیل تک پہنچنے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں بھی زیادہ صوبے ہیں اور انتظامی معاملات کی بہتری کی علامت ہیں۔ ایران میں 31، ہندوستان میں 28، سری لنکا میں 9، نیپال میں 7، چین میں 22 اور بنگلا دیش میں 8 صوبے ہیں۔ وہاں کی سیاسی جماعتوں نے کبھی رونا پیٹنا نہیں کیا، ہماری سیاسی جماعتیں اگر ڈیم بنانے کی بات کی جائے تو شور مچ جاتا ہے کہ ڈیم نہیں بننے دیں گے، ملک میں Green Initiative کی بات ہو تو کہتے ہیں نہریں نہیں نکالنے دیں گے۔ یہ ایک غلط رویہ ہے جس کا تدارک کیا جانا بہت ضروری ہے۔ اس ملک کو دو موروثی سیاسی خاندانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ سیاسی جماعتیں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں قطعی دلچسپی نہیں رکھتیں جو ایک افسوس ناک اور ملک کے خلاف رویہ ہے۔ ان جماعتوں کی حوصلہ شکنی ملک کے مفاد میں ہوگا۔ وزیر داخلہ صاحب نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ کی ’’ٹافیاں‘‘ نوجوانوں میں بانٹنے کو بچکانہ اقدام قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کو نوکریوں کی ضرورت ہے، جب ملک کا نظام چلے گا تو ترقی ہوگی، روزگار کے مواقع نکلیں گے۔ بے نظیر انکم سپورٹ کو آٹھ سو ارب روپے کے فنڈز دینا لوٹ مار کا راستہ فراہم کرنا ہے۔ اس فنڈ پر کٹ لگانے اور مستحق افراد تک پہنچانے کی ضرورت ہے جو جھونپڑیوں میں رہتے ہیں وہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امداد نہیں پہنچتی، یہ سراسر ظلم ہے۔ پاکستان کا نظام بیٹھ چکا ہے، بقول وزیر داخلہ 100 ارب یہاں سے دبئی پہنچا دیے گئے۔ نظام کو بدلنے کے ساتھ ساتھ بے رحم احتساب بھی انتہائی ضروری ہے۔ وہ تمام دولت جو لوٹ کر باہر پہنچائی گئی ہے وہ ہر صورت میں واپس لانا اور قرضوں اور اس پر سود ختم کرنے کے کام آنی چاہیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس جملے ’’کچھ کرنا ہوگا‘‘ نے کروڑوں عوام کو خوشی اور امید کی جو کرن دکھائی ہے۔ اس پر بلا تا خیر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اب ملک کی بقا کا معاملہ ہے اور ملک کو بچانا ہماری عظیم افواج کی ذمہ داری ہے جو یقین ہے انشا اللہ دل و جان سے پوری کی جائے گی۔