طالبان حکومت آنے کے بعد افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا‘طالبان کی وعدہ خلافیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھارت پاکستان کی صلاحیتوں سے سیکھے، ہماری مسلح افواج دو دہائیوں سے دہشتگردوں کے خلا ف بر سر پیکارہیں :سیمینار سے خطاب
اسلا م آباد (اے ایف بی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سرنڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں شامل نہیں،پاکستان دہشت گردوں کیخلاف پورے عزم کے ساتھ برسرپیکارہے ، عالمی برادری دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان سے تعاون کرے۔ اسلام آباد میں دنیا کیلئے پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف جنگ کے عنوان سے منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھایا، پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہا ہے، گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فورسز کے 600 سے زائد اہلکار شہید ہوئے۔انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت آنے کے بعد افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا، عبوری افغان حکومت نے جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے، وہ دوحہ معاہدے کے بر خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کیخلاف پورے عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے، ہم نے اپنی آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے دہشت گردی کو شکست دینی ہے، ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز نے دہشت گردوں کی کمر توڑی۔انہوںنے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان ہرگز دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکے گا، سرنڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں شامل نہیں، ڈیجیٹل پروپیگنڈا عصر حاضر کا ایک اور پیچیدہ چیلنج ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا ہے کہ افغانستان سے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے میں کئے گئے وعدوں کی پاسداری کرے، پاکستان دہشتگردی کیخلاف یہ جنگ دنیا کے امن کیلئے لڑ رہا ہے، عالمی برادری دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان سے تعاون کرے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب اور سرحد نہیں ہوتی، دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کی معیشت متاثر ہوئی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 92ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل کر ہم نے اقتصادی تبدیلیاں کیں، پاکستان دنیا میں دہشتگردی کے خلاف کام کرنے والی سنجیدہ ریاست بنا۔سابق وزیرخارجہ نے کہا کہ ڈیجیٹل پروپیگنڈا عصرحاضر کا پیچیدہ چیلنج ہے، ہمیں اپنا فوکس ڈیجیٹل فرنٹ کی طرف کرنا پڑے گا، اقوام عالم کو کشمیر سے فلسطین تک انصاف پر امن قائم کرنا ہوگا۔