2025ء پاکستان کیلئے خیر و برکت اور معاشی ترقی کا سال ثابت ہو گا، امن و امان اور دہشتگردی کے عفریت کے خاتمے کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا ہو گا :وزیراعظم

دہشتگروں کو کچلے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے  شہباز شریف

پارہ چنار معاہدے پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں‘ اس واقعہ میں   سینکڑوں لوگ مارے گئے  جو  افسوسناک  ہے‘   پوری دنیا  نے یہ منظر دیکھا اور اس کا عالمی سطح پر ملک پر برا اثر  پڑا ‘ کوشش کرنا ہو گی   ایسا دلخراش واقعہ قیامت تک  نہ ہو 
 ہمیں ذاتی مفاد سے بالاتر  ہو  کر ملکی مفاد کے لئے سوچنا ہو گا ‘معاشی ترقی کا سلسلہ اس بات پر منحصر ہے  ملک میں امن ہو، اس وقت سکیورٹی ہمارے لئے ایک چیلنج کی مانند ہے :اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو‘آرمی چیف بھی شریک ہوئے
اپیکس کمیٹی  کے اجلاس میں زراعت، آئی ٹی، کان کنی‘سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ ‘ ملکی معاشی اعشاریئے بہتر ہونے پر اظہاراطمینان ‘روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے اقدامات پر اتفاق

اسلام آباد (آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیس)  وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے 2025 پاکستان کے لئے  خیر و برکت اور معاشی ترقی کا سال ثابت ہو گا ، دہشتگردی کا سر کچلے بغیر  ملک آگے نہیں بڑھ سکتا  ، امن و امان اور دہشتگردی کی عفریت کے خاتمے کے لئے سب کو ایک پیج پر آنا ہو گا ،  پارا چنار معائدہ خوش آئند ہے ۔    معاشی استحکام ہو گا  توہی سیاسی استحکام بھی آئے گا ۔    ایس آئی ایف سی  کی اپیکس کمیٹی کے   اجلاس سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے  رواں سال کو ملکی معاشی ترقی  اور خیر و برکت کا سال قرار دیتے ہوے کہا کہ آج مہنگائی کی شرح 2018 کے بعد پہلی بار 4.1 فیصد پر آئی ہے، بیرونی ترسیلات میں پچھلے 5 ماہ میں پچھلی سال کی نسبت 34 فیصد اضافہ ہوا ہے، ایکسپورٹ بہتر ہوئی،  فارن ریزرو  4 بلین ڈالر سے ساڑھے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا  کہ بینکوں کا پالیسی ریٹ 13 فیصد پر ہے، ابھی بھی گنجائش ہے کہ اسٹیٹ بینک مزید 8 پوائنٹ تک پالیسی ریٹ کم کرسکتا ہے، اسٹاک ایکسچینج ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پہ ہے، یہ اعشاریے کھلا ثبوت ہیں کہ یہ سال ملک ترقی اور خوشحالی میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔،بشرطیکہ ہم سب مل کر شبانہ روز محنت کرتے ہوئے ملک کو آگے لے کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری حکومت کو  ساڑھے نو ماہ میں ندرو نی  و بیرونی  چیلنجز کا سامنا رہا  تاہم  جرات اور  حوصلے سے ہم نے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا ۔  انہوں نے کہا  حکومت نے سمگلنگ کی روک تھام کے لئے اہم اقدامات کئے  اورایک سال میں چاول کی ایکسپورٹ  سے  4 ارب ڈالر جبکہ چینی کی ایکسپورٹ سے آدھا بلین ڈالر ملکی   خزانے میں آیا   یا آنے والا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں کہ ہمارے پاس سرپلس چینی تھی اور  ہم  چینی ایکسپورٹ کرپائے، اگر ہم چینی ایکسپورٹ نہ کرتے تو چینی کی اسمگلنگ ہوتی، افغانستان کو چینی اسمگلنگ کے دوران کریک ڈاؤن ہوا اور ہم چینی سرپلس میں لے جانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے   خلیجی ممالک کے سا تھ بہترین  تعلقات  کی  پیشرفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوے کہا   وسطی ایشیائی ممالک  پاکستان  میں  سرمایہ کاری بڑھانے کے خواہاں  ہیں ۔   جو کہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔   سعودی  عرب ، یو اے ای ، قطر کے ساتھ تعلقات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔  ہمارے پاس بہت بڑا   موقع ہے کہ ہم ان ممالک کے ساتھ   روابط کو بڑھائیں ۔ مختلف ممالک سے ایم او یوز سائن ہوچکے ہیں تاہم  معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے اگر سیاسی استحکام ہوگا تب ہی معاشی استحکام ہوگا، اب ہمیں معاشی گروتھ کی جانب جانا ہے تو سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتیں کم کرنا ہوں گی، ٹیکس آمدنی بڑھانی ہے تو کوششیں کرنا ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ  بینکوں نے کئی برس بے پناہ منافع کمایا  اے آر ڈی کے ذریعے   72 ارب روپے لے کر بینکوں میں جمع کرائے۔ انہوں نے  چیئرمین ایف بی آر کی کارکردگی کو سراہاتے ہوے کہا کہ  راشد لنگڑیاں قابل افسر ہیں ان کی اور انکی ٹیم کی  کوشش سے کراچی پورٹ پر ہینڈلنگ میں تیزی آئی ہے بیک لاگ کافی حد تک حل ہوچکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشی ترقی کا سلسلہ اس بات پر منحصر ہے کہ ملک میں امن ہو، اس وقت سیکیورٹی ہمارے لیے ایک چیلنج کی مانند ہے بدقسمتی سے افغان حکومت نے بہت سے لوگوں کو چھوڑ دیا، دہشت گردوں کو کچلے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے اس کے لیے سیکیورٹی ادارے جام شہادت نوش کررہے ہیں، روز کوئی واقعہ ہوتا ہے اور لوگ شہید ہوتے ہیں دہشتگری کا سر کچلے بغیر  ملک آگے نہیں بڑ ھ سکتا ۔  ہمیں اس ناسور کے خلا ف  متحد ہو کر ایک پیج پر آنا ہو  گا  ۔    انہوں نے کہا معیشت کی بہتری  میں  صو بوں نے  بھی بہترین  کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔  انہوں نے پاراچنار معاہدے پر سب کو مبارکباد  دیتے ہوے کہا کہ اس واقعے میں   سینکڑوں لوگ مارے گئے  جو کہ  افسوسناک  ہے   پوری دنیا  نے یہ منظر دیکھا اور اس کا عالمی سطح پر ملک پر برا اثر  پڑا ۔   ہمیں کوشش کرنا ہو گی کہ  ایسا دلخراش واقعہ قیامت تک  نہ ہو ۔  انہوں نے کہا  کہ اب ہمیں ذاتی مفاد سے بالاتر  ہو  کر ملکی مفاد کے لئے سوچنا ہو گا ۔دریں اثناء اپکس کمیٹی نے زراعت، آئی ٹی، کان کنی, سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اقتصادی ترقی کے لئے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا، ایپکس کمیٹی نے ملک بھر میں اسپیشل اکنامک زون کا جال بچھانے پر زور دیا، فورم نیعزم کیا کہ چاروں صوبوں میں اسپیشل اکنامک زونز قائم ہونے چاہیے،اجلاس میں بریفنگ  دی گئی کہ اکنامک زونز کے قیام کے لئے مقامات کا تعین کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا۔رائع ابلاغ کے مطابق فورم نے اکنامک زونز سے متعلق قوانین کو آسان بنانے پر زور دیا، ایس آئی ایف سی ایپکس کمیٹی کو مائننگ سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی گئی ،کان کنی سے متعلق وفاقی اور صوبائی قوانین میں ترمیم کی بھی سفارش کی۔ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، مختلف ممالک کی سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کی گئی، دوست ممالک سے سرمایہ کاری کے امکانات کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق معیشت کی بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا، فورم نے ملکی معاشی اعشاریئے بہتر ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے مختلف شعبوں میں اقدامات کو تیز بنانے پر اتفاق ہوا۔