ٹیکسا لی اور شیرانوالہ گیٹ پارکنگ پر حکم امتناع میں توسیع

حکومتی پالیسی بننے تک ان پراجیکٹس کو روک دیا جائے :جسٹس شاہد کریم 
درخت یا شاخ تک بغیر اجازت نہیں کاٹی جانی چاہیے:عدالت کا اظہاربرہمی
 لاہور(خصوصی رپورٹ )لاہور ہائی کورٹ میں سموگ تدارک سے متعلق اہم کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ پراجیکٹس پر حکم امتناع کی مدت 9 فروری تک بڑھا دی اور ہدایت کی کہ حکومتی پالیسی بننے تک ان پراجیکٹس کو روک دیا جائے تاکہ ری ڈیزائننگ میں آسانی ہو۔ جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد امجد پرویز، ایڈیشنل ڈی جی پی ایچ اے اور دیگر افسر پیش ہوئے۔ جسٹس شاہد کریم نے شہر میں درختوں کی کٹائی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئیکہا کہ درختوں کے تحفظ کیلئے م ئوثر اقدامات نہیں کیے گئے،پنجاب یونیورسٹی جیسے خود مختار اداروں میں بھی درخت کاٹے گئے، جبکہ ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے کوئی پالیسی موجود ہے نہ کسی کو اس کی معلومات ہیں۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ وہ خود اس معاملے کی نگرانی کریں اور سائٹ وزٹ بھی کریں۔ جسٹس شاہد کریم نے مزید ریمارکس دئیے ایک درخت کو پروان چڑھنے میں کئی سال لگتے ہیں اور اگر درختوں کا تحفظ نہ کیا گیا تو ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ وہ وزیر اعلیٰ اور متعلقہ افسروں کیساتھ اعلیٰ سطح کا اجلاس کریں اور انہیں درختوں کی کٹائی کے حوالے سے آگاہ کریں۔ عدالت نے پی ایچ اے کے این او سی کے نظام پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور ریمارکس دئیے کہ صرف چند لائنوں کا این او سی جاری کر دینا کافی نہیں، شہر میں درخت یا اس کی شاخ تک بغیر اجازت نہیں کاٹی جانی چاہیے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹیکسالی اور شیرانوالہ گیٹ کے پراجیکٹس پر جاری حکم امتناع واپس لیا جائے ، درختوں کے تحفظ بارے عدالتی احکامات کے مطابق ٹرانسپلانٹ پالیسی بنائی جائے گی۔ جسٹس شاہد کریم نے مزید کہا کہ آزاد ماہرین کی رائے سے ٹرانسپلانٹ پالیسی بنائی جائے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی۔