ِکنیز بتول کھوکھر
گھر خاموش مگر اس خاموشی میں سکون نہیں دیواریں اور صحن میں بچھا فرش گواہ اور نکاح نامہ بھی جس پر دستخط تو موجود، مگررضامندی کہیں درج نہیں
یہ وہ خاموشی ہے جو چیختی نہیں اندر ہی اندر انسان کو کھا جاتی ہے ایسے ہی گھروں سے انتقام جنم لیتا ہے اور ایسے ہی نکاحوں سے معاشرتی بگاڑپیدا ہوتے ہیں
نکاح اسلام میں سزا نہیں سکون کا وعدہ ہے یہ وہ رشتہ ہے جس کی بنیاد قرآن پاک نے محبت اور رحمت پر رکھی مگر جب یہی نکاح انسان کی مرضی کے بغیر دباؤ، لالچ، خاندانی ضد یا انتقام کے تحت باندھا جائے تو یہ رحمت نہیں قید بن جاتا ہے یہ قید کسی ایک جنس کے لیے مخصوص نہیں مرد اور عورت دونوں اس کے اسیر بنتے ہیں کہیں دونوفریق بھگتے ہیں کہیں کوئی ایک دوسراانتکامی کاروائی پورے خاندان تک منتقل کردیتا ہیکہیں کوئی خاموشی میں جھیلتا ہے، اور اکثر اسے غصے، بگاڑ یا بدلے میں ڈھال دیتے ہیں
قرآنِ کریم نکاح کے مقصد کو ایک جملے میں واضح کر دیتا ہے’’نکاح سکون کے لیے ہے سمجھوتے، مجبوری یا ہتھیار کے لیے نہیں‘‘
جہاں سکون کی بجائے گھٹن ہو وہاں مان لینا چاہیے کہ ہم نے اللہ کے حکم کو روایت کے شور میں کھو دیا ہے
عام طور پر بحث ‘‘اجازت’’ پر آ کر رک جاتی ہے حالانکہ اصل مسئلہ اجازت کا نہیں، بولنے کی آزادی کا ہے بعض اوقات لڑکی اس نکاح پر راضی نہیں ہوتی اور اکثر اوقات لڑکا مگر لڑکی کو ‘‘شرم’’، ‘‘عزت’’ اور ‘‘برداشت’’ کے نام پر خاموش کرا دیا جاتا ہے لڑکا انکار کرے تو اسے نافرمان، بدتمیز یا خاندان کا دشمن قرار دے کر دبا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وراثت سے محرومی کی دھمکی بھی دی جاتی ہے
یوں دو زندگیاں ایک ایسے فیصلے کے آگے ہار مان لیتی ہیں جس میں ان کی رضا شامل ہی نہیں ہوتی
رسولِ اکرم نے اس جبر کو واضح الفاظ میں فرمایا ’’بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے صاف اجازت نہ لی جائے،اور کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے‘‘
صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کنواری کی اجازت کیسے سمجھی جائے؟
آپ نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا رضامندی ہے
یہ حکم کسی ایک فریق کے تحفظ کے لیے نہیں پورے معاشرتی توازن کے لیے ہے رضامندی کے بغیر نکاح، نکاح نہیں رہتا وہ طاقت کا استعمال بن جاتا ہے
یہ مان لینا بھی ایک فریب ہے کہ زبردستی کے نکاح صرف عزت کی خاطر ہوتے ہیں ان کے پیچھے اکثربرادری ، لالچ، پیسہ، زمین، خاندانی
ضد، سماجی مفاد اور کہیں برسوں پرانا انتقام چھپا ہوتا ہے
جب نکاح رشتہ نہیں بلکہ سودا بن جائے تو محبت پہلے دن ہی ہار مان لیتی ہے
ایک اور تلخ حقیقت جس پر عموماً پردہ ڈال دیا جاتا ہے جب مرد یا عورت میں سے کسی ایک کا رویہ خراب ہو تو معاشرہ دوسرے فریق کو خاموش رہنے کا مشورہ دیتا ہے مگر یہ فرض کر لینا کہ ہر انسان جبر کو سہہ لیتا ہے حقیقت نہیں
کچھ جبر کو مقدر سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور کچھ اسی جبر کا انتقام بن جاتے ہیں کہ وہ شادی پر راضی نہیں تھے
پھر گھر سکون کی جگہ میدانِ جنگ بن جاتا ہے الزام، تذلیل، کردار کشی، شک و شبہات، حتیٰ کہ جادو ٹونے جیسے الزامات تک نوبت پہنچتی ہے
یہاں عورت بھی ٹوٹتی ہے اور مرد بھی
بس فرق یہ ہے کہ کسی ایک کا ٹوٹنا نظر آ جاتا ہے دوسرے کا ٹوٹنا نظر انداز کر دیا جاتا ہے
اسلام نے نکاح میں حقِ مہر کو رسمی شے نہیں بلکہ واجب قرار دیا ہے
واجب کو ادا نہ کرنا محض کوتاہی نہیں شرعی جرم ہے مگر ہمارے معاشرے میں نہ عورت سے مہر کے بارے میں پوچھا جاتا ہے نہ اس کی مقدار معلوم ہوتی ہے، نہ اس کی رائے شامل کی جاتی ہے بلکہ کہیں اسی کو مسئلہ بنا کررشتہ ختم بھی کیا جاتا ہے اور اکثر صورتوں میں مہرحقیقتاً ادا ہی نہیں کیا جاتا‘نکاح پڑھا دیا جاتا ہے، مگر اس کی روح چھین لی جاتی ہے
رسول اللہ نے فرمایا:
زبردستی کا نکاح بھی ظلم ہے چاہے اس پر روایت کا لیبل لگا دیا جائے یا نیتوں کی چادرک، نیت ظلم کو عدل نہیں بنا سکتی
یہ تحریر کسی مرد یا عورت کے خلاف نہیں، بلکہ فرسودہ نظام کے خلاف ہے جو روایت کے نام پر انسانوں کی زندگیاں دائوپر لگا دیتا ہے
اگر نکاح سکون نہ دے رحمت کے بجائے زحمت بن جائے، تو مان لینا چاہیے کہ ہم نے سنت کو رسم میں بدل دیا ہے
یہ قلم خاموش گفتکو ہے جوحساب مانگ رہا ہے
ان مردوں اورعورتوں کا جن کی رضامندی کو دفن کر دیا گیا
خاموش گفتگو وہ لاوا ہے جو بولتا نہیں، مگر جلاتا ضرور ہے
اور جب یہ لفظ بن کر بہتا ہے، تو صرف کہانی نہیں لکھتا ضمیرزندہ ہوتا ہے