پاکستان کی معروف ٹک ٹاکر امشا رحمان نے گزشتہ سال وائرل ہونے والی نازیبا ویڈیوز کے بارے میں بالآخر اپنے مداحوں سے بات کی ہے۔
ان ویڈیوز کی وجہ سے امشا کو شدید سوشل میڈیا تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنا ٹک ٹاک اکاؤنٹ معطل کر دیا تھا۔ امشا نے ان ویڈیوز کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بدنام کرنے کی نیت سے یہ ویڈیوز وائرل کی گئی تھیں۔امشا نے اس اسکینڈل کے بعد کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ویڈیوز دیکھ کر ان کی زندگی مکمل طور پر متاثر ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں یونیورسٹی نہیں جا سکتی تھی، اور مجھے لوگوں کا سامنا کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ اس دوران مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’سوشل میڈیا پر لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دوسروں کی ذاتی ویڈیوز پھیلانا صرف تفریح یا مذاق نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ ان ویڈیوز کا اثر انسان کی ذاتی اور پیشہ ور زندگی پر پڑتا ہے۔‘‘
امشا رحمان نے اس معاملے میں قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ چاہتیں تو اس اسکینڈل کا جواب ویڈیوز پوسٹ کرکے دے سکتی تھیں، لیکن انہوں نے اس کے بجائے قانون کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی مدد کے لیے ایف آئی اے (پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی) حرکت میں آئی اور اس اسکینڈل میں ملوث مجرموں کو گرفتار کر لیا۔واضح رہے کہ امشا رحمان نے ٹک ٹاک پر اپنی شہرت کو پچھلے کچھ سالوں میں حاصل کیا تھا اور ان کے اکاؤنٹ پر 2 لاکھ سے زائد فالوورز تھے۔ اس اسکینڈل کے بعد ان کے سوشل میڈیا کی زندگی میں ایک سنگین موڑ آیا، لیکن اب وہ قانونی کارروائی کے ذریعے انصاف کی کوشش کر رہی ہیں اور بدنامی کے اس واقعے کا مقابلہ کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔