کراچی میں بچے کے گٹر میں گرنے کا المناک واقعہ، تحقیقاتی رپورٹ جاری

کراچی میں بچے کے گٹر میں گرنے کا المناک واقعہ، تحقیقاتی رپورٹ جاری

کراچی کے علاقے گلشن اقبال، نیپا چورنگی کے قریب واقع ایک نجی اسٹور کے سامنے 3 سالہ بچے کے مین ہول میں گرنے کے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے اہم رپورٹ سیکریٹری محکمہ بلدیات کو ارسال کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ افسوسناک حادثہ اتوار کی شب 10 بجے پیش آیا جب بچے کے والدین کے ہمراہ نکلتے ہوئے وہ مین ہول کے قریب کھڑا ہوا تھا۔ چونکہ مین ہول کا ڈھکن غائب تھا، اس لیے عارضی طور پر گتے کا استعمال کرکے اسے بند کیا گیا تھا۔ تاہم، بچے کے وزن کے باعث گتے کی مدد ناکام ہوگئی اور وہ مین ہول میں گر گیا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگیا۔ بچہ کی لاش 15 گھنٹے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے ملی۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ بی آر ٹی منصوبے کی تعمیراتی سرگرمیوں کی وجہ سے پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق، بی آر ٹی کی جانب سے نالے کی کھدائی کی گئی تھی، جس سے نکاسی نظام کو شدید نقصان پہنچا۔ کھدائی سے قبل کے ایم سی کو مناسب اطلاع بھی نہیں دی گئی تھی۔ بی آر ٹی نے کام شروع کرنے کے بعد بھی اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی، اور نہ ہی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بی آر ٹی کی جانب سے کھدائی کے دوران، ایک جگہ مین ہول کا کھلا رہنا حادثے کی وجہ بنا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کے ایم سی نے ان غیر معیاری اور غیر محفوظ طریقہ کار کو استعمال کرنے والے ڈھکنے کبھی بھی استعمال نہیں کیا تھا۔مزید برآں، رپورٹ کے مطابق، معائنے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نجی اسٹور انتظامیہ اور بی آر ٹی کی مشترکہ غفلت کے سبب یہ حادثہ پیش آیا۔ کھدائی کے بعد، افسران کی نگرانی میں تمام حصے بھر دیے گئے تھے، مگر حفاظتی اقدامات کا فقدان رہا۔اس واقعہ کے بعد، شہری حلقوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ میئر کراچی کے حکم پر میونسپل سروسز نے بچے کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں بچے کی لاش برآمد ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں حفاظتی معیارات کو بہتر بنایا جائے گا۔