پنجاب حکومت نے 40 روز قبل ہونے والے پتنگ بازی کے واقعہ کے بعد جاری ہونے والی بندش کے بعد دوبارہ بسنت منانے کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور میں 21 سالہ نوجوان کی موت کے بعد حکومت نے 2001 کا پتنگ بازی پابندی آرڈیننس مکمل طور پر منسوخ کر دیا ہے اور نئے کائٹ فلائینگ آرڈیننس 2025 کا نفاذ کیا ہے۔نئے آرڈیننس کے مطابق، پنجاب میں پتنگ بازی صرف ڈپٹی کمشنرز کی اجازت سے مشروط ہوگی۔ پتنگ سازی اور فروخت کے لیے رجسٹریشن ضروری قرار دی گئی ہے، اور پتنگ باز تنظیموں کو بھی رجسٹریشن کروانا ہوگی۔ رجسٹریشن کے بعد پتنگ بنانے اور بیچنے کے لائسنس بھی لازمی ہوگا۔ اس کے تحت، حکومت اور ڈپٹی کمشنرز مخصوص مقامات، دنوں، اور مقررہ وقت پر محدود پیمانے پر پتنگ بازی کی اجازت دے سکیں گے، مگر غیر خطرناک مواد کی تشریح اب تک واضح نہیں کی گئی۔
اس کے علاوہ، حکومت پولیس کو بے پناہ اختیارات دے رہی ہے۔ سب انسپکٹر رینک کا پولیس افسر بغیر وارنٹ گرفتاری کر سکے گا، کسی بھی مقام پر داخل ہو کر سرچ کرے گا، اور ممنوعہ سامان قبضے میں لے سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر، حکومت کسی بھی ادارے یا ایجنسی کو یہ اختیارات تفویض کر سکتی ہے۔یہ نوعیت کی تبدیلیاں اور اضافی اختیارات پولیس کو پتنگ بازی کے حوالے سے مانیٹرنگ اور کارروائی میں مدد فراہم کریں گی، جس سے حکومتی موقف ہے کہ بسنت کی تقریبات کو محفوظ اور کنٹرول شدہ بنایا جائے۔