چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت اجلاس میں جسٹس ظفر احمد راجپوت کو سندھ ہائیکورٹ اورجسٹس کامران ملاخیل کو بلوچستان ہائیکورٹ کا نیا چیف جسٹس بنانے کی منظوری دی گئی
سپریم جوڈیشل کونسل نے پروسیجر آف انکوائری 2025 کو عبوری طور پر منظور کرلیا‘نئے انکوائری طریقہ کار کی بھی متفقہ طور پر منظوری‘ اجلاس میں قواعد سازی کے لیے کمیٹی تشکیل
اسلام آباد(آن لائن)اعلی عدلیہ میں ججزکی تعیناتی کے لیے سفارش کرنے والے نیشنل جوڈیشل کمیشن نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا مستقل جج تعینات کردیا جبکہ سندھ اور بلوچستان کے نئے چیف جسٹسز کے ناموں کی بھی منظوری دے دی گئی۔جسٹس ظفر احمد راجپوت کو سندھ ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنانے کا فیصلہ کیاگیا، جسٹس کامران ملاخیل بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس ہوں گے۔ جوڈیشل کمیشن نے معاملہ صدر کی منظوری کیلئے وزارت قانون کو بھجوادیا۔جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت ہوا، جس میں ججز کی تقرری پر غور کیاگیا۔دریں اثناء سپریم جوڈیشل کونسل کے اہم اجلاس میں قواعد سازی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی جبکہ پروسیجر آف انکوائری 2025 کو عبوری طور پر منظور کرلیاگیاہے۔منگل کوچیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی نے سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس صدارت کی۔اس دوراں چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان، جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل،جسٹس حسن اظہر رضوی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے شرکت کی۔سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے نئے قواعد بنانے کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے۔کمیٹی میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی،جسٹس عالیہ نیلم بھی بطور رکن شامل کہاگیاہے کمیٹی کو کونسل کے طریقہ کار سے متعلق قواعد کا مسودہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔قواعد آرٹیکل 209 کی شق 10 کے تحت تیار کیے جائیں گے۔سپریم جوڈیشل کونسل نے پروسیجر آف انکوائری 2025 کو عبوری طور پر منظور کرلیا۔کونسل نے نئے انکوائری طریقہ کار کو متفقہ طور پر منظور کیا۔