پاکستان میں حیاتیاتی ہتھیاروں پر مکمل پابندی، ہتھیار استعمال کرنے پر سزائے موت، عمر قید اور ایک کروڑ جرمانہ ہوگا‘ مدد فراہم کرنے پر 25 سال قید ‘ ایک کروڑ تک جرمانہ ہوگا
کمیشن کسی بھی عوامی عہدے پر فائز شخصیت کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر تحقیقات کر سکتا ہے‘ حکومت ایک ماہ کے اندر کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کی پابند ہوگی
بل کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن کا احتجاج ‘پیپلز پارٹی کی حمایت ،سینیٹر عبد القادر اور ایمل ولی خان کی مخالفت‘
اقلیتوں کے حقوق کا بل ہے، قیدی نمبر 804 کو کچھ نہیں ہوگا : اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد ( آن لائن ) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتیں بل 2025 کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا‘ بل کے تحت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن قائم کیا جائے گا، جسے مختلف قانونی اختیارات حاصل ہوں گے۔کمیشن کو کوڈ آف سول پروسیجر 1908 کے تحت سول عدالت کے اختیارات حاصل ہوں گے اور یہ کسی بھی عوامی عہدے پر فائز شخصیت کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر تحقیقات کر سکتا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعلقہ حکومت ایک ماہ کے اندر کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کی پابند ہوگی۔کمیشن اپنی رپورٹ اور حکومت کی عملدرآمد رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا اور شکایات درج کرانے والے شہری کی شناخت چھپانے کے لیے احکامات جاری کر سکتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اقلیتوں سے متعلق کسی بھی عوامی نوعیت کے مسئلے پر کمیشن سے رائے حاصل کر سکیں گی، جبکہ متاثرہ اقلیتی شہریوں کی مالی مدد کے لیے کمیشن کو فنڈز فراہم کرنے کی پابندی ہوگی۔کمیشن اقلیتوں سے متعلق موجودہ تمام قوانین اور قواعد کا جائزہ لے گا اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ترویج کے لیے قومی ایکشن پلان تیار کرے گا۔ اس کے علاوہ، یہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمتوں میں اقلیتی کوٹے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے اور سوشل میڈیا سے نفرت انگیز مواد ہٹانے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات دینے کا مجاز ہوگا۔مشترکہ اجلاس میں جمیعت علمائے اسلام ف کی ترمیم کے ذریعے کمیشن سے ازخود نوٹس لینے کا اختیار واپس لے لیا گیا۔ کمیشن کے ارکان کی کل تعداد گیارہ ہوگی، جبکہ چئیرمین کی مدت چار سال ہوگی۔ چئیرمین کی تعیناتی کے لیے چار رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں دو ارکان سینیٹ اور دو قومی اسمبلی سے شامل ہوں گے۔بائیولوجیکل اور زہریلے ہتھیاروں کے خلاف بل بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کیا گیا جس کی تفصیلات سامنے آگئیں۔بل کے متن کے مطابق پاکستان میں حیاتیاتی ہتھیاروں پر مکمل پابندی ہوگی، حیاتیاتی ہتھیار استعمال کرنے پر سزائے موت، عمر قید اور ایک کروڑ جرمانہ ہوگا۔بائیو ویپن کی تیاری کے لیے براہ راست یا بالواسطہ تکنیکی، مالی، لاجسٹک یا کوئی دوسری مدد فراہم کرنے پر 25 سال قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔بائیو لوجیکل ہتھیاروں کے پاکستان یا پاکستان سے باہر استعمال یا استعمال پر پابندی ہوگی، بائیولوجیکل ہتھیار پاکستان یا پاکستان سے باہر استعمال کرنے پر سزائے موت یا عمر قید ہوگی۔ بائیولوجیکل مواد یا ٹیکنالوجی کی ترسیل کی درآمد متعلقہ وزارت کنٹرول کرنے کی مجاز ہوگی۔ حیاتیاتی نباتات کے ذریعے، بیکٹریا، وائرس یا کسی بھی قسم کی انفیکشنز بائیولوجیکل ہتھیار کی تیاری پر 10 سے 25 سال قید ایک کروڑ جرمانہ ہوگا۔ ممنوعہ مقاصد کے لیے بائیولوجیکل ہتھیار تیار و ڈیزائن کرنے، پیداوار، ذخیرہ اندوزی پر پابندی ہوگی۔بائیولوجیکل ہتھیاروں کی نقل و حمل، درآمد، برآمد، فروخت اور منتقلی پر بھی پابندی ہوگی۔ بائیولوجیکل ہتھیاروں سے متعلق تمام مواد، ساز و سامان، ٹیکنالوجی اور مجرم کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد وفاقی حکومت ضبط کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔وفاقی حکومت کے ذریعے انجام پانے والے یا مجاز کردہ کسی پروگرام یا سرگرمی کو ممنوع قرار نہیں دیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا یہ اقلیتوں کے حقوق کا بل ہے، قیدی نمبر 804 کو کچھ نہیں ہوگا۔ یہ انتہائی اہم قانون ہے۔ اقلیتوں کی تعریف کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے 2014 میں فیصلہ دیا تھا کہ کمیشن بنایا جائے لہذا اس قانون پر سیاست نہ کی جائے