بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا قابل سزا جرم ہوگا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلیس ایکٹ 2026 منظور کرلیا گیا، اطلاق اسلام آباد میں ہوگا

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس صدر کے اعتراضات نظرانداز‘2 بل منظور ،اپوزیشن کی غزہ پیس بورڈ کی مخالفت
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل اور دانش سکولز اتھارٹی بل کی منظوری دی گئی ،گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل بھی  منظور ‘سانحہ گل پلازہ پر حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ قرارداد منظورکرلی گئی
ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ کا اطلاق بیوی، بچوں،  بزرگ افراد، لے پالک، ٹرانس جینڈر اور گھر میں اکٹھے رہنے والے افراد پر ہوگا‘ بیوی، بچوں یا  دیگر افراد کو گالی دینا، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا
جرم کے مرتکب افراد کو تین سال تک  سزا، ایک لاکھ روپے تک جرمانہ  عائد کیا جا سکے گا‘ بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کیساتھ رکھنا، خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزت نفس مجروح کرنا بھی جرم قرار دیا گیا
 اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )پارلیمنٹ کے مشرکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور  صدر مملکت کی جانب سے اعتراضات کے باوجود بلز منظور کرلئے گئے۔  پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعہ کو اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں مقررہ وقت سے 35 منٹ تاخیر سے شروع ہوا ۔اجلاس میں قانون سازی کے متعدد اہم نکات زیر بحث آئے ۔ اس موقع پر ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد سے متعلق بل پر اعتراضات سامنے آئے، جن میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت دانش اسکولز اتھارٹی بنانے سے قبل صوبوں کے ساتھ مشاورت کرے۔ اسی طرح گھریلو تشدد سے متعلق بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے تجویز کردہ سزائوں پر بھی اعتراض کیا گیا اور کہا کہ گھریلو تشدد سے متعلق بل کو موجودہ شکل میں منظوری دینے کے بجائے اس پر دوبارہ غور کیا جائے۔مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل پیش کیا گیا، جو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان میں پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے بل میں ترمیم پیش کی، جس کی حکومت نے حمایت کی۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق بل پر جے یو آئی کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں، جو سینیٹر کامران مرتضی اور عالیہ کامران نے پیش کی تھیں۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 بھی مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے دانش اسکولز بل پر صوبوں کو اعتماد میں لینے سے متعلق صدر مملکت کی ایڈوائس ایوان میں پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے بلز پر صوبوں سے مشاورت کا کہا تھا جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے اور وفاق صوبوں کی حدود میں مداخلت کر رہا ہے۔اس دوران اسپیکر نے اپوزیشن کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے منظوری کا عمل شروع کر دیا، جس پر اپوزیشن نے نعرے بازی کی۔ دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے جب کہ اپوزیشن اراکین ایوان میں نعرے لگاتے رہے۔پی ٹی آئی کے اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے بھی نعرے بازی کی جب کہ بیرسٹر گوہر نے دہشت گرد دہشت گرد نامنظور کے نعرے لگائے۔  اس موقع پر محمود خان اچکزئی اور سینیٹر راجا ناصر عباس کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین کا اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج جاری رہا  جب کہ دیگر اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی بھی جاری رہی۔اپوزیشن کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باوجود پارلیمنٹ نے دانش اسکولز اتھارٹی بل کی بھی منظوری دے دی۔بعد ازاں گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025منظوری کے لیے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا‘پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بیوی بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق اہم قانون منظور کیا گیا جس کے مطابق بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا اور بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا بھی قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 منظورکرلیا گیا ہے، جس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پرہوگا۔ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر کے بزرگ افراد، لے پالک، ٹرانس جینڈر اور گھر میں ایک ساتھ رہنے والے افراد پر ہوگا۔قانون میں بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا اور اس جرم کے مرتکب افراد کو تین سال تک کی سزا، ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 میں بیوی، بچوں کے علاوہ گھر میں معذور افراد یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا بھی جرم ہوگا، بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا، خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزت نفس مجروح کرنا بھی جرم قرار دیا گیا۔ایکٹ کے مطابق بیوی یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی، گھر میں ایک ساتھ رہنے والے کسی بھی فریق پر الزام لگانے، بیوی بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر فریق کا خیال نہ رکھنا بھی قابل سزا جرم ہے۔ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ میں جنسی استحصال کے ساتھ معاشی استحصال بھی شامل ہے اور جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 6 ماہ کی قید ہوگی۔