پنجاب: پتنگ بازی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کیلئے قوانین میں ترمیم کی منظوری

پنجاب: پتنگ بازی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کیلئے قوانین میں ترمیم کی منظوری

پنجاب کابینہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس میں متعدد فیصلے کیے، جن میں قانون سازی، ترقیاتی منصوبوں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اہم اقدامات کی منظوری دی گئی۔

 ان فیصلوں کا مقصد صوبے میں انتظامی بہتری، عوامی خدمات، اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ تفصیل درج ذیل ہے:

1. قوانین میں ترامیم اور نئے قوانین کی منظوری
پتنگ بازی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینا: پنجاب کابینہ نے پتنگ بازی کو ایک سنگین جرم قرار دینے کے لیے قوانین میں ترمیم کرنے کی منظوری دی ہے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ایکٹ 2024 میں ترمیم: اس ترمیم کے تحت عوامی اور نجی شراکت داری کے نئے قوانین نافذ کیے جائیں گے۔
ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024 میں ترمیم: اس ترمیم کے تحت پنجاب میں اشتہارات کی پالیسی کو جدید بنایا جائے گا تاکہ عوامی اور نجی شعبے کے اشتہارات کی منصفانہ تقسیم ہو سکے۔
2. پولیس کی تربیت
عراقی پولیس افسران کی تربیت: کابینہ نے پنجاب پولیس کو 210 عراقی پولیس افسران اور اہلکاروں کی تربیت دینے کی منظوری دی ہے۔ یہ تربیت بین الاقوامی تعلقات میں بہتری لانے اور پولیس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اہم قدم ہے۔
3. پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی
اتھارٹی کے قیام کی منظوری: پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی گئی ہے تاکہ صوبے میں ضوابط کے نفاذ کو بہتر بنایا جا سکے۔
اسسٹنٹ کمشنرز کو اختیارات دینا: اس طرح کے اختیارات دینے سے مقامی سطح پر فیصلوں کی جلدی اور کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
4. اسموگ سے نمٹنے کے اقدامات
اسموگ کے خاتمے کے لیے اقدامات: وزیراعلیٰ مریم نواز نے سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی قیادت میں اسموگ سے نمٹنے کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی ٹیم نے جنگی بنیادوں پر اس مسئلے پر قابو پایا۔
5. زرعی ترقی
کسان کارڈ: پنجاب کے کسانوں نے کسان کارڈ کے ذریعے 25 ارب روپے کے زرعی مداخل خریدے ہیں۔ اس کے تحت 16 ارب روپے کی ڈی اے پی کھاد خریدی گئی، اور پہلی مرتبہ پنجاب میں کھاد کی قلت اور نرخوں میں اضافہ نہیں ہوا۔
گندم کی بوائی: گندم کی بوائی کا ہدف 16.6 ملین ایکڑ مقرر کیا گیا تھا، اور 87 فیصد گندم کی بوائی مکمل ہو چکی ہے۔
6. منارٹی کارڈ اور امدادی پروگرام
منفرد منارٹی کارڈ: پنجاب میں اقلیتی خاندانوں کے لیے منفرد منارٹی کارڈ جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔ 15 ہزار نادار اقلیتی خاندانوں کو سہ ماہی امدادی رقم دی جائے گی۔
7. دینی رسومات اور سیاحت
گرو نانک جنم دن کی تقریبات: وزیراعلیٰ مریم نواز نے گرو نانک کے جنم دن کے شاندار انتظامات پر شکریہ ادا کیا، اور سکھ یاتریوں کی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے واپسی کا ذکر کیا۔
ننکانہ صاحب میں موٹل کا قیام: وزیراعلیٰ نے ننکانہ صاحب میں سکھ یاتریوں کے لیے تین موٹل قائم کرنے کی ہدایت دی۔
8. منصوبے اور ترقیاتی فنڈز
ہارس اینڈ کیٹل شو: پنجاب میں ہارس اینڈ کیٹل شو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کی منظوری دی گئی۔
بلدیاتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری: کابینہ نے بلدیاتی اداروں کے لیے جدید مشینری فراہم کرنے اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی۔
چوبرجی گارڈن میں سہ منزلہ ٹاور: چوبرجی گارڈن میں سرکاری ملازمین کے لیے سہ منزلہ ٹاور بنانے کی منظوری دی گئی۔
9. تعلیمی پروگرامز
فاؤنڈیشنل لرننگ پالیسی: پنجاب کے اسکولوں میں سپوکن انگلش اور ریڈنگ آورز کے لیے فاؤنڈیشنل لرننگ پالیسی پنجاب 2024 کی منظوری دی گئی۔
نرسنگ کالجز میں ایوننگ کلاسز: پنجاب کے نرسنگ کالجز میں ایوننگ کلاسز کے آغاز کی منظوری دی گئی۔
10. صحت کے پروگرامز
پنجاب ٹرانسپلانٹ پروگرام: پنجاب میں ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لیے اڑھائی ارب روپے کی منظوری دی گئی تاکہ لیور، کڈنی، بون میرو اور دیگر ٹرانسپلانٹس کیے جا سکیں۔
ایم آر آئی اور کیتھ لیب: گلگت بلتستان کو ایم آر آئی اور کیتھ لیب فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔
11. ملازمتیں اور بھرتیاں
پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کی اپگریڈیشن: پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کے پرانے آلات کی تبدیلی کی منظوری دی گئی۔
بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی میں بھرتیاں: 42 سال بعد بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی میں 464 خالی آسامیاں پر کرنے کی منظوری دی گئی۔
12. مختلف منصوبے
8 اسپتالوں کے بورڈ آف مینجمنٹ: پنجاب میں 8 اسپتالوں کے نئے بورڈ آف مینجمنٹ کے قیام کی منظوری دی گئی۔
ترقیاتی منصوبے: ضلع قصور کے 43 ترقیاتی منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے، فیصل آباد میں ایسٹرن ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔
ٹولنٹن مارکیٹ کی بحالی: لاہور کی ٹولنٹن مارکیٹ کی بحالی کے لیے 192 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی۔
یہ تمام فیصلے پنجاب کی ترقی کے لیے اہم اقدامات ہیں اور ان کے ذریعے عوامی خدمات، تعلیم، صحت، اور انفراسٹرکچر میں بہتری لانے کا منصوبہ ہے۔