ریاض: سعودی عرب کے ساحل کے قریب الجبیل کے شمال مشرق میں دو الگ الگ بحری ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق دونوں واقعات میں ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے۔ حکام نے واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پہلا واقعہ: نامعلوم پراجیکٹائل سے ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا
یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق پہلا واقعہ سعودی عرب کے صنعتی شہر الجبیل کے شمال مشرق میں تقریباً 68 ناٹیکل میل، یعنی 126 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک ٹینکر کو نامعلوم پراجیکٹائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد جہاز کے عملے کے تمام ارکان کو محفوظ قرار دیا گیا، جبکہ کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع بھی سامنے نہیں آئی۔حکام واقعے کی نوعیت اور حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار سے متعلق معلومات جمع کر رہے ہیں۔
دوسرا واقعہ: آر پی جی حملے سے ٹینکر کو نقصان
دوسرا واقعہ الجبیل کے شمال مشرق میں تقریباً 78 ناٹیکل میل، یعنی 144 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک چھوٹی کشتی سے فائر کیے گئے راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ (آر پی جی) نے ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے کوارٹر کو نقصان پہنچا۔اس واقعے میں بھی عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے۔ تاہم حملہ آوروں کی شناخت اور واقعے کے پس منظر سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
حکام کی جانب سے تحقیقات شروع
یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے دونوں واقعات کی اطلاع متعلقہ بحری حکام کو دی ہے، جبکہ حملوں کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔تاحال دستیاب معلومات میں کسی گروہ یا ملک کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ اسی طرح دونوں واقعات کے درمیان کسی تعلق کی بھی تصدیق نہیں ہوئی۔
بحری سلامتی سے متعلق خدشات
تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں پر حملوں کے واقعات بحری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کرسکتے ہیں۔ خلیج کے علاقے میں بحری آمدورفت عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ہے، اس لیے ایسے واقعات پر بین الاقوامی بحری اداروں کی توجہ رہتی ہے۔تاہم ان دو واقعات کے ممکنہ اثرات، تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں کسی رکاوٹ یا تیل کی ترسیل پر اثرات کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔