کامن ویلتھ گیمز 2026: آسٹریلیا سب سے آگے، ریکارڈز کی نئی تاریخ رقم

کامن ویلتھ گیمز 2026: آسٹریلیا سب سے آگے، ریکارڈز کی نئی تاریخ رقم

گلاسگو میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز 2026 کے 10 روزہ مقابلے اختتام پذیر ہوگئے، جہاں دنیا بھر کے کھلاڑیوں نے مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

 ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر 215 طلائی تمغوں سمیت سیکڑوں میڈلز تقسیم کیے گئے۔میڈلز ٹیبل پر آسٹریلیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ آسٹریلوی دستے نے مجموعی طور پر 171 تمغے جیتے، جن میں 70 طلائی، 56 چاندی اور 45 کانسی کے تمغے شامل تھے۔ آسٹریلیا کی کامیابی میں تیراکی کے مقابلوں کا اہم کردار رہا، جہاں اس نے 37 طلائی تمغے حاصل کیے۔آسٹریلیا کی تیراک میگ ہیرس نے بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے چھ انفرادی طلائی تمغے اپنے نام کیے، جبکہ ایتھلیٹکس، ٹریک سائیکلنگ اور تھری بائی تھری باسکٹ بال سمیت دیگر کھیلوں میں بھی آسٹریلوی کھلاڑی نمایاں رہے۔میڈلز ٹیبل پر انگلینڈ 29 طلائی تمغوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ کینیڈا تیسرے اور بھارت چوتھے نمبر پر موجود رہا۔ بھارت نے کئی کھیلوں میں اچھی کارکردگی دکھائی، تاہم وہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی برتری کو چیلنج نہ کرسکا۔کامن ویلتھ گیمز 2026 میں کئی کھلاڑیوں نے نئے ریکارڈ بھی قائم کیے۔ جنوبی افریقا کے تجربہ کار تیراک چیڈ لی کلوز نے مردوں کی 4x100 میٹر میڈلے ریلے میں کانسی کا تمغہ جیت کر کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں سب سے زیادہ 21 تمغے جیتنے والے کامیاب ترین ایتھلیٹ کا اعزاز حاصل کر لیا۔

اسی طرح 76 سالہ لوئیس ہوسکنز نے پیرا باؤلز ویمنز پیئرز مقابلے میں طلائی تمغہ جیت کر کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ کی معمر ترین گولڈ میڈلسٹ بننے کا منفرد اعزاز اپنے نام کیا۔اس بار گلاسگو گیمز میں پیرا اسپورٹس کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی، جہاں ریکارڈ 141 پیرا اسپورٹس تمغے تقسیم کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام عالمی کھیلوں میں شمولیتی پالیسیوں اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔دوسری جانب پاکستانی دستہ کامن ویلتھ گیمز 2026 میں توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکا اور صرف ایک کانسی کا تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ قومی کھلاڑی کئی مقابلوں میں شریک ہوئے، تاہم وہ میڈلز کی دوڑ میں نمایاں مقام حاصل نہ کر سکے۔کھیلوں کے ماہرین کے مطابق پاکستان کو مستقبل میں بہتر نتائج کے لیے کھلاڑیوں کی تیاری، جدید تربیتی سہولیات اور بین الاقوامی معیار کے کوچنگ نظام پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔