پارلیمانی جمہوری نظام قائداعظم نے دیا : رانا ثنا اللہ

پی پی نے پولنگ کے آغاز سے ہی دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کر دیے تھے، ابتدا میں 13 نشستوں پر دھاندلی کا دعویٰ ،پھر یہ تعداد کم کرکے صرف دو نشستوں تک محدود کر دی
 زرداری صاحب کا ایک برخوردار 30 سال کا سفر ساڑھے 3 سال میں طے کرنے والا کہتا ہے سسٹم نہیں چل سکتا،تم کہاں سے چلے اور اب کہاں پہنچ گئے ہو:وزیراعظم مشیر برائے سیاسی امور
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سسٹم میں تم نے 30 سال کا سفر ساڑھے تین سال میں طے کیا ہے اور تمہیں اب خبر ہو رہی ہے کہ سسٹم بالکل خراب ہے اور یہ نہیں چل سکتا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی پی کے دھاندلی کے الزامات میں تضاد، پہلے 13 پھر 2 نشستوں کا دعویٰ کیا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے بھرپور انداز میں ووٹنگ میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن ماحول میں مکمل ہوا۔مشیر وزیراعظم نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے پولنگ کے آغاز سے ہی دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کر دیے تھے، ابتدا میں 13 نشستوں پر دھاندلی کا دعویٰ کیا گیا۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ تاہم بعد میں پاکستان پیپلزپارٹی نے یہ تعداد کم کرکے صرف دو نشستوں تک محدود کر دی، جو ان کے بقول الزامات میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔آزاد کشمیر میں ایک عوامی جلسے سے خطاب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب کے ایک برخوردار فرما رہے ہیں، یہ سسٹم بس اب ختم ہو چکا ہے، برخودار کا کہنا ہے کہ سسٹم اب آگے چلنے کے قابل نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ اس سسٹم میں تم نے 30 سال کا سفر ساڑھے تین سال میں طے کیا، تم کہاں سے چلے اور اب کہاں پہنچ گئے ہو؟ اب تمہیں آکر پتہ چلاہے کہ سسٹم بالکل خراب ہے اور یہ نہیں چل سکتا، اب اس سسٹم کی تمہیں خبر ہو رہی ہے کہ یہ سسٹم ٹھیک نہیں ہے۔رانا ثنا کا کہنا تھا کہ یہ پارلیمانی جمہوری نظام قائداعظم نے دیا ہے، سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان حاصل کیا گیا، یہ سب کو معلوم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ جلسے میں آکر کہیں کہ وزیراعظم تو فارم 47 کا ہے، اگر وزیراعظم کے لیے گئے ووٹ فارم 47 کے ہیں تو پھر صدر نے جو ووٹ لیے ہیں وہ کس فارم کے تھے؟ نواز شریف کو یہ کہیں گے کہ وہ پہلی دفعہ یا ہمیشہ دھاندلی سے وزیراعظم بنے ہیں تو پھر آپ یاد کریں، یہاں یہ بھی بات ہوتی ہے کہ کوئی پہلی بار ملک توڑنے کے بعد وزیر اعظم بنا تھا۔