لاہور چڑیا گھر میں تنہا جانوروں کے لیے جوڑے بنانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی افزائش نسل کو فروغ دیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق قید میں بڑے جانوروں کی بریڈنگ مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ اس کے لیے کھلی جگہ، متوازن خوراک اور نجی جگہ (پرائیوسی) فراہم کرنا ضروری ہے۔حال ہی میں جنوبی افریقہ سے نر دریائی گھوڑا درآمد کیا گیا ہے تاکہ کئی برسوں سے تنہا رہنے والی مادہ دریائی گھوڑے "رانی" کو ساتھی مل سکے۔ اس سے قبل بھی کچھ بڑی بلیاں (Big Cats) جوڑے بن چکے ہیں۔ لاہور چڑیا گھر کے وزیٹرز اس اقدام پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ویٹرنری ماہر ڈاکٹر بابر سلیم نے بتایا کہ دریائی گھوڑوں کے لیے موجودہ تالاب چھوٹا اور کم گہرا ہے، اور نر و مادہ کی عمر میں بھی کافی فرق ہے، جس سے بریڈنگ کے عمل میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ زرافوں کی افزائش بھی اسی وجہ سے متاثر ہوتی ہے کیونکہ چڑیا گھروں میں جگہ محدود ہوتی ہے۔
لاہور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق چڑیا گھر میں جانوروں کے لیے وسیع جگہ اور بہترین ویٹرنری ٹیم موجود ہے، اور ماضی میں کئی جانوروں کی کامیاب بریڈنگ ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نر گینڈے کی درآمد کا عمل جاری ہے اور جلد وہ چڑیا گھر میں شامل ہوگا۔ تین زرافے بھی جنوبی افریقہ سے لاہور سفاری زو میں موجود ہیں، لیکن انہیں ابھی لاہور چڑیا گھر منتقل نہیں کیا گیا۔ لیپرڈ، دریائی نیولا اور جیگوار کے ساتھی کب فراہم کیے جائیں گے، اس بارے انتظامیہ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔یہ اقدامات نہ صرف جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے اہم ہیں بلکہ لاہور چڑیا گھر کے وزیٹرز کے لیے بھی دلچسپی کا باعث بن رہے ہیں۔