ایندھن، خوراک کی عالمی قیمتیں بڑھنے پر شرح سود بڑھانے کیلئے تیار ہیں:اعلامیہ
سوشل میڈیا پر 50ہزار، یوٹیوب پرہزار ویوز پر 195روپے آمدن تصور کرنیکی تجویز
اسلام آباد (بیورو رپورٹ)آئی ایم ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سٹیٹ بینک مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال میں مہنگائی بڑھنے کے خدشہ کے پیش نظر سخت ترین مانیٹری پالیسی پر کاربند رہے، پاکستان کے ساتھ حالیہ سٹاف لیول معاہدے میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ سٹیٹ بینک افراط زر میں غیر معمولی اضافے کے خدشات پر سخت ترین مانیٹری پالیسی اپنائے رکھے گا، باوثوق ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سٹیٹ بینک کے فیصلوں کی مانیٹرنگ جاری رکھے گا۔ سٹیٹ بینک حکام سے حالیہ مذاکرات میں 9مارچ کی میٹنگ میں پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے امور پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔ سٹیٹ بینک حکام کے مطابق خوراک اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھائو اور گھریلو قیمتوں اور بنیادی افراط زر کے حوالے سے قریبی نگرانی کر رہے اور ضرورت کے مطابق پالیسی ایڈجسٹ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ آئی ایم ایف شرط اور بجٹ میں مختص ریونیو ہدف میں شارٹ فال پورا کرنے کیلئے ایف بی آر سوشل میڈیا کی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی کیلئے متحرک ہو چکا ہے جس کیلئے سوشل میڈیا ماہرین اور متعلقین سے ایک ہفتے کے اندر اپنی تجاویز مانگ لی ہیں۔ ایف بی آر نوٹیفکیشن کے مطابق ایک ہفتے کے بعد سوشل میڈیا سے انکم ٹیکس کی وصولی کا طریقہ کار طے کرلیا جائے گا، اس مدت سے پہلے موصول اعتراضات یا تجاویز کو زیر غور لایا جائے گا، سوشل میڈیا سے آمدنی والے افراد پر ٹیکس کیلئے خصوصی طریقہ کار شق 99 سی کے تحت لاگو کیا جائے گا، پاکستان میں دیکھے جانے والے سوشل میڈیا سے انکم ٹیکس کی وصولی کا طریقہ کار شامل کیا جا رہا ہے، ایف بی آر کے مطابق غیر رہائشی شخص جو سوشل میڈیا سے پاکستان میں صارفین کی ویورشپ، سبسکرائب سے آمدنی حاصل کرتا ہے وہ انکم ٹیکس دے گا۔ سوشل میڈیا پر ایک مالی سال میں 50 ہزار ویوز اور ایک سہ ماہی میں 12 ہزار 500 ویوز کاروباری تصور کرنے کی تجویز ہے اور ان پر انکم ٹیکس کا اطلاق ہو گا، یو ٹیوب پر 1000 ویوز پر آمدن 195 روپے تصور کرنے کی تجویز ہے۔