خسارہ پورا کرنے کیلئے کھاد، زرعی ادویات،شوگر آئٹمز پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ،آئی ایم ایف کو یقین دہانی

 مہنگائی کا جھٹکا ،عوام کو رگڑا،ٹیکس بم تیار
 نومبر کے اختتام تک تقریباً سوا 4 سو ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال ،1.2ارب ڈالر کی قسط موصولزرِ مبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر تک بڑھ گئے، افراطِ زر میں سیلاب کے باعث اضافہ عارضی ہے ، مستحکم پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہو گا : عالمی مالیاتی ادارہ
اسلام آباد(بیورو رپورٹ ،خصوصی رپورٹ)ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کیلئے جنوری سے کھاد، زرعی ادویات، شوگر آئٹمز پر ٹیکس لگانے کی آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرا دی گئی ، نومبر کے اختتام تک تقریباً سوا 4 سو ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال ہے۔ ایف بی آر نے دسمبر کا ٹارگٹ اور گزشتہ 5 ماہ کا شارٹ فال پورا نہ ہونے پر میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں ٹیکس اقدامات کی یقین دہانی سمیت درجنوں نئی شرائط بھی رکھ دیں۔ آئی ایم ایف نے 1.2 ارب ڈالر سٹیٹ بینک اکائونٹ میں منتقل کر دئیے۔ آئی ایم ایف نے 8 دسمبر کو پاکستان کیلئے ایک ار ب 20کروڑ ڈالرز کی منظور دی تھی۔ موجودہ قرض پروگرام کی تیسری قسط کے 1 ارب ڈالر اور موسمیاتی تبدیلی کیلئے 20 کروڑ ڈالر جاری کئے گئے۔ ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کیلئے کھاد اور زرعی ادویات پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی جائے گی ، ہائی ویلیو شوگرآئٹمز پر شیڈول 8کا استثنیٰ ختم کر کے سٹینڈرڈ سیلز ٹیکس شرح عائد کی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے دوسرے جائزے کی تکمیل پر کنٹری رپورٹ جاری کر دی۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ای ایف ایف کی چوتھی قسط کیلئے تیسرا اقتصادی جائزہ، آر ایس ایف قرض پروگرام کے تحت دوسری قسط کیلئے دوسرا اقتصادی جائزہ مارچ میں ہو گا جس کیلئے کنٹری رپورٹ میں درجنوں نئے سٹرکچرل بینچ مارک سونپ دیئے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے سرکاری ملکیتی اداروں کے قانوں میں تبدیلی کیلئے اگست 2026 کی ٹائم لائن مقرر کر دی، ایف بی آر نے ریونیو شارٹ فال پورا نہ ہونے کی صورت میں مزید ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرائی، حکومت نے شوگر سیکٹر مکمل ڈی ریگولیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ توانائی شعبے میں اصلاحات، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، لاگت میں کمی کیلئے اصلاحات جاری رکھی جائیں گی ، ایم ای ایف پی میں چاروں صوبوں کے درمیان سیلز ٹیکس پر ہم آہنگی پیدا کی جائے گی، گردشی قرضہ میں کمی کیلئے 128 ارب روپے کی آئی پی پیز سے سود کی رقم کو ختم کرایا جائے گا۔ کنٹری رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2024 کے دوران 52 لاکھ اور سال 2025 کیلئے 70 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرن فائل ہوئیں، مستحکم گروتھ حاصل کرنے کیلئے آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا، آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب کے باعث 70 لاکھ افراد متاثر اور تقریباً 1 ہزار جاں بحق ہوئے، انفراسٹرکچر، گھروں، لائیو سٹاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ رواں مالی سال کے دوران مرکزی بینک کی مہنگائی کی شرح 7 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 1.3 فیصد پرائمری سرپلس حاصل کیا، زرِ مبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر تک بڑھ گئے، افراطِ زر میں سیلاب کے باعث اضافہ عارضی ہے۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان کو مستحکم پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہو گا۔