فرانس کا دعویٰ: ایران-امریکا جوہری مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی تصادم ہوگا

فرانس کا دعویٰ: ایران-امریکا جوہری مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی تصادم ہوگا

پیرس: فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہو گئے تو خطے میں فوجی تصادم تقریباً ناگزیر ہو جائے گا۔

پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں بارو نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا نتیجہ پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرانس کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔اس سے پہلے، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ اقدامات پر ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے جوہری پروگرام پر خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش جاری رکھے گا تو امریکہ اس پر بمباری کرے گا۔

 دوسری طرف، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔بارو نے کہا کہ فرانس کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مستقل اور قابل تصدیق طریقے سے محدود کیا جائے۔اس دوران، امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی نافذ کر دی ہے، جس میں اقتصادی پابندیاں اور دیگر سخت اقدامات شامل ہیں۔