پشاور: موسلادھار بارش، بدھنی نالے میں طغیانی، پانی گھروں میں داخل

پشاور: موسلادھار بارش، بدھنی نالے میں طغیانی، پانی گھروں میں داخل

پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں بارش اور طغیانی کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی گھروں کے اندر داخل ہو گیا، جس سے رہائشیوں کو مالی نقصان پہنچا۔

بدھنی نالہ کے آس پاس علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے کے باعث لوگوں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ نالے کی عدم صفائی اور حفاظتی پشتوں کی کمی کی وجہ سے ہر بار پانی زیادہ ہونے پر یہ نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نالے کی صفائی اور ارد گرد پشتے لگائے جائیں تاکہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے۔اسی طرح، متھرا، ریگی اور دیگر علاقوں میں بھی سیلابی پانی نے گھروں میں داخل ہو کر نقصان پہنچایا اور کچھ علاقوں میں گھروں کے گرنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا۔ خطرہ زدہ علاقے شامل ہیں: ورسک روڈ، درمنگی، ریگی لارما، ناصر باغ، بڈھنی، ریگی للمہ، حسن گھڑی، شاھی بالا، ملازئی اور میاں گجر۔شہریوں کو مساجد میں اعلانات کے ذریعے فوری نقل مکانی کی ہدایات دی گئی ہیں۔ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں، بجلی کے کھمبوں اور زیرِ آب سڑکوں سے دور رہیں، ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

ڈب، جنجالی، جمعہ خان اور چورہ خوڑ میں بھی سیلاب نے ناصر باغ پشاور سے متصل دیہات کو متاثر کیا۔ حیات آباد میں نرے اور موڑو خوڑ، جبکہ ناصر باغ میں پلوسے خوڑ میں بھی طغیانی آگئی۔صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا کہ محکمہ آبپاشی خیبر پختونخوا سیلابی صورتحال میں درکار اقدامات کر رہا ہے اور نہری رقبوں پر قائم تجاوزات کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ ان کے مطابق بروقت اقدامات کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم گھروں اور املاک کو کافی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آبپاشی کے حکام و ملازمین کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں اور بروقت و مؤثر ہم آہنگی یقینی بنائیں۔دوسری جانب، حفاظتی خدشات کے پیش نظر بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ترجمان ٹرانس پشاور نے کہا کہ بی آر ٹی سروس اگلی اطلاع تک بند رہے گی تاکہ مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے، اور صورتحال بہتر ہونے پر سروس کی بحالی سے متعلق دوبارہ آگاہ کیا جائے گا۔