ویب ڈیسک: بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ نے ایک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے پاکستان کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان کا ایک انٹرویو کلپ وائرل ہوا ہے، جس میں جنرل (ر) کنول جیت سنگھ نے واضح طور پر کہا کہ بھارت کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ پاکستان کی جانب آنے والے دریاؤں کا پانی روک بھی سکتا ہے اور اچانک چھوڑ بھی سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر بھارت اچانک پانی روک کر پھر بڑی مقدار میں پاکستان کی طرف چھوڑ دے تو اس سے شدید سیلاب آسکتا ہے اور پاکستان اس ہنگامی صورتحال کو سنبھال نہیں پائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت فصلوں کے موسم میں پاکستان کے لیے ضروری پانی روک سکتا ہے، جبکہ برسات کے موسم میں جب پانی کی ضرورت کم ہوتی ہے، تب اسے چھوڑ سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
کنول جیت سنگھ نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ سندھ طاس معاہدہ کوئی عالمی معاہدہ نہیں بلکہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک دو طرفہ معاہدہ ہے، اس لیے بھارت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے پانی روکنے یا چھوڑنے کا فیصلہ کرے۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت نے اچانک دریائے راوی، جہلم، ستلج اور چناب میں پانی چھوڑ دیا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان کے کئی علاقے شدید متاثر ہوئے۔ اس غیر معمولی سیلابی صورتحال کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور متعدد گھر بھی بہہ گئے۔