ڈاکٹراعجاز
حالیہ فیفا فٹ بال ورلڈ کپ اپنی تمام رنگا رنگ اور رعنائیوں کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔دنیا کے کونے کونے میں بسے افراد اس کھیل سے لطف اندوز ہوئے۔ایسے ممالک جہاں یہ کھیل نہیں بھی کھیلا جاتا پھر بھی اس کھیل نے ان کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔اس سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ کھیل سے محبت کرنے والوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
فیفا ورلڈ کپ ہر چار سال بعد دنیا کو ایک ایسے سحر میں جکڑ لیتا ہے جس کی مثال کسی اور کھیل میں نہیں ملتی۔ اسٹیڈیمز کی چکا چوند، اربوں شائقین کا جنون، اور میدان میں پسینہ بہاتے کھلاڑی یہ سب دیکھ کر جہاں دل خوش ہوتا ہے، وہیں ایک پاکستانی ہونے کے ناطے دل میں ایک کسک اور اداسی سی چھا جاتی ہے۔سوال بھی ابھرتا ہے: "ہم اس کھیل میں سب سے اتنے پیچھے کیوں ہیں؟"
ایک ایسے ملک میں جہاں 24 کروڑ سے زائد کی آبادی ہے اور جس کا بیشتر حصہ جوان ہے، وہاں فٹبال جیسا مقبول ترین کھیل اس کو پس پشت کیوں ڈال دیا گیا؟ حالیہ ورلڈ کپ نے ایک بار پھر ہمیں آئینہ دکھایا ہے کہ دنیا کھیل کے اس میدان میں کہاں پہنچ چکی ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔
اگر ہم پاکستان میں فٹبال کی بات کریں تو ایسا ہرگز نہیں کہ ہمارے پاس صلاحیت یا جذبے کی کمی ہے۔ پاکستان کے کونے کونے میں فٹبال کا ایک قدرتی ٹیلنٹ موجود ہے۔ یہاں کے بچے بنا کسی تربیت کے وہ مہارت دکھاتے ہیں جو حیران کن ہے۔
یہ ایک دلچسپ اور تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان فیفاورلڈ کپ کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی ہر ورلڈ کپ میں موجود ہوتا ہے۔ سیالکوٹ میں بننے والی اعلٰی معیار کی فٹبالز پوری دنیا کے اسٹیڈیمز میں استعمال ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاتھ دنیا کو فٹبال بنا کر دیتے ہیں، لیکن ہمارے پاؤں اس بال کو عالمی ورلڈ کپ میں چھو نہیں پاتے۔یہ ایک المیہ ہے
پاکستان فٹبال فیڈریشن طویل عرصے سے اندرونی دھڑے بندیوں، ذاتی مفادات کی جنگ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ادارے کی اسی بدحالی کی وجہ سے فیفا کئی بار پاکستان پر پابندیاں بھی عائد کر چکا ہے۔ جب ادارے ہی مستحکم نہ ہوں تو کھلاڑیوں کا مستقبل کیسے محفوظ ہو سکتا ہے؟
دنیا میں فٹبالر 6 سے 8 سال کی عمر میں اکیڈمیز میں جانا شروع کر دیتے ہیں، جہاں ان کی خوراک، تکنیک ،جسمانی فٹنس اور سائنسی بنیادوں پر کام ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں فٹبال صرف گلی محلوں اور کچے میدانوں تک محدود ہے۔ گراس روٹ لیول پر اکیڈمیز اور اسکول اسپورٹس کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔پرائیویٹ اسکول جو تین منزلہ عمارتوں میں بنے ہوئے ہیں۔ وہاں سے کسی کھلاڑی کا جنم لے لینا ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ نہیں ہمارے پاس عالمی معیار کے میدان یا انٹرنیشنل معیار کے فلڈ لائٹ اسٹیڈیمز کی شدید کمی ہے۔ جو چند گراؤنڈز ہیں، ان کی دیکھ بھال نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کھیلوں کی طرح فٹبال کو نہ تو سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور نہ ہی اسپانسرشپ دنیا کے تمام بہترین ممالک کی بنیاد ان کی پریمیئر لیگز ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ایک مسلسل اور فعال پروفیشنل فٹبال لیگ کا نہ
ہونا کھلاڑیوں کو روزگار اور تجربے سے محروم رکھتا ہے۔ جب تک کھلاڑی کو فٹبال سے اپنا چولہا جلتا نظر نہیں آئے گا، وہ اسے بطورِ کیریئر نہیں اپنائے گا۔حالیہ ورلڈ کپ ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں پاکستان کا قومی ترانہ بھی فٹبال کے عالمی کپ میں گونجے، تو ہمیں ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل اقدامات کرنا ہوں گے:
پی ایف ایف ادارے کی ازسر نو بحالی اور اس کو سیاست سے پاک کر کے کھیل سے محبت رکھنے والے اور پیشہ ور افراد کے حوالے کیا جائے۔
ہماریکوچزاورکھلاڑیوں کو جدید فٹبال تکنیک، ویڈیو انالسز اور فٹنس سائنس سے روشناس کرایا جائے۔
پاکستان فٹبال لیگ کا آغاز کیا جائے جس میں غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ مقامی ٹیلنٹ کو ایکسپوڑر ملے۔اوورسیز پاکستانی ٹیلنٹ کا استعمال دنیا بھر کی لیگز میں کھیلنے والے پاکستانی نڑاد کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کرنے کا نظام شفاف اور تیز بنایا جائے۔فٹبال صرف ایک کھیل نہیں، یہ اربوں ڈالر کی صنعت اور قوموں کی شان و شوکت کا ضامن ہے۔ مراکش جیسے ملک نیحالیہ سالوں میں دنیا کو حیران کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور منصوبہ بندی درست، تو کوئی بھی ملک عالمی سطح پر معجزہ دکھا سکتا ہے۔
پاکستان کے پاس ٹیلنٹ کا سمندر موجود ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اس سمندر کو درست سمت میں بہنے کا راستہ دیں۔ اگر آج ہم نے ٹھوس قدم نہ اٹھائے، تو ہر چار سال بعد ہم یونہی دوسروں کی کامیابیوں پر تالیاں بجاتے رہیں گے۔ہمارا حال اس طرح کا ہو گا کہ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ