مریم نواز سے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے سینئر لیڈر شپ کورس کے وفد کی ملاقات

مریم نواز سے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے سینئر لیڈر شپ کورس کے وفد کی ملاقات

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے نیشنل کمانڈ اتھارٹی سینئر آفیسر لیڈرشپ کورس کے وفد نے ملاقات کی، جس کے دوران پنجاب حکومت کے گورننس، ترقیاتی اور امن و امان سے متعلق اقدامات پر گفتگو ہوئی۔

مریم نواز نے کورس کے شرکا کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا، جبکہ چیف سیکریٹری پنجاب زاہد زمان اختر نے وفد کو صوبائی حکومت کے مختلف امور اور اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وفد کے شرکا نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے عوامی خدمات کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بطور خاتون وزیراعلیٰ انہیں عزت اور احترام ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو حکومت اچھا کام کررہی ہو اسے اپنی آئینی مدت مکمل کرنی چاہیے، جبکہ عوامی خدمت کے کام دیرپا طور پر یاد رکھے جاتے ہیں۔مریم نواز نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران دنیا نے پاکستان کا ایک مختلف اور مثبت روپ دیکھا۔ ان کے مطابق فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ داخلی سکیورٹی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے گڈ گورننس اور حکومتی کارکردگی اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونا ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور بہتر گورننس کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

مریم نواز نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں کسی گروہ یا علاقے کی بنیاد پر تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق پنجاب میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، تاہم سکیورٹی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور داخلی و خارجی سکیورٹی کے لیے سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اسلحے کی نمائش اور غیرضروری سکیورٹی کلچر کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد تک کمی آئی ہے، جبکہ پولیس کے پرانے طریقہ کار اور عادات میں تبدیلی ایک مشکل عمل تھا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے کرائم کنٹرول کے حوالے سے اس سے قبل بھی مختلف اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ مارچ 2026 میں حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے اقدامات کے بعد ڈکیتی کے واقعات میں 77 فیصد، موبائل فون اور بیگ چھیننے کے واقعات میں 49 فیصد کمی ہوئی۔ تاہم اپریل 2026 میں ایک اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے بعض اقسام کے پرتشدد جرائم میں دوبارہ اضافے پر پولیس حکام سے جواب طلب کیا تھا۔