پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں حالیہ دنوں میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مسلح جھڑپیں اور میزائل حملے ہوئے ہیں۔
پس منظر
22 اپریل 2025 کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک دہشت گرد حملے میں 28 ہندو سیاح ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔ اس کے جواب میں بھارت نے 7 مئی کو "آپریشن سندور" کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں میں میزائل حملے کیے، جن میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے ٹھکانے نشانہ بنائے گئے۔
پاکستان کا ردعمل: آپریشن بنیان مرصوص
بھارتی حملوں کے جواب میں، پاکستان نے 10 مئی کو "آپریشن بنیان مرصوص" کا آغاز کیا۔ اس آپریشن کے تحت پاکستان نے بھارت کے مختلف فوجی اہداف، بشمول پٹھانکوٹ ایئربیس، ادھم پور ایئرفورس بیس، اور برہموس میزائل ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی حکام کے مطابق، ان حملوں میں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور شہری علاقوں سے گریز کیا گیا۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ اتھارٹی ملک کی جوہری پالیسی اور سٹریٹیجک فیصلوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اجلاس میں بھارت کی جانب سے کی گئی کارروائیوں اور پاکستان کے جوابی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، اس اجلاس کا انعقاد اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی حکمت عملی پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
موجودہ صورتحال
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور سرحدی علاقوں میں فوجی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری، بشمول امریکہ، چین، اور G7 ممالک، دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی اپیل کر رہی ہے۔ تاہم، دونوں جانب سے سخت موقف اپنایا جا رہا ہے، جس سے خطے میں امن و امان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
نتیجہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی نے خطے میں سلامتی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوری مذاکرات اور بین الاقوامی ثالثی کی ضرورت ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔