فرانس میں تعلیمی مسائل کے خلاف جاری طلبہ احتجاج میں شدت آگئی، جہاں مارسی کے سینٹ ایکسپیوری ہائی اسکول میں آگ بجھانے کے لیے پہنچنے والی فائر بریگیڈ کی گاڑی کو سینکڑوں نوجوانوں نے گھیر لیا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین نے فائر فائٹرز کو گاڑی سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اور بعدازاں فائر بریگیڈ کی گاڑی کو آگ لگادی گئی۔مغربی شہر نانت میں نیلسن منڈیلا ہائی اسکول میں بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ مقامی حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا، جبکہ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔فرانس میں طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ہفتے شروع ہوا تھا جو اب پیرس کے مضافاتی علاقوں سے نکل کر مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، اساتذہ کی کمی، ناکافی تعلیمی وسائل اور اسکولوں کی خستہ حالی نے تعلیمی ماحول کو متاثر کیا ہے۔بعض مظاہرین نے پولیس پر آنسو گیس کے استعمال اور سخت کارروائیوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، جبکہ حکام کی جانب سے پولیس کے طرزِ عمل سے متعلق بعض شکایات کی تحقیقات شروع کیے جانے کی اطلاع ہے۔فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق بعض مقامات پر شرپسند عناصر مختلف اسکولوں کا رخ کرکے تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر تعلیم ایڈوارڈ گیفری نے کہا ہے کہ احتجاج کے باعث جن اسکولوں میں طلبہ کی آمدورفت ممکن نہیں، وہاں آن لائن کلاسز کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ تشدد طلبہ کے تعلیم حاصل کرنے کے بنیادی حق میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ احتجاج کی صورتحال پر وزیراعظم سباستیاں لیکورنو کے دفتر میں ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا، جبکہ وزیر تعلیم نے اساتذہ کی نمائندہ تنظیموں، والدین اور طلبہ کی انجمنوں سے ملاقاتوں کا اعلان کیا ہے۔یہ احتجاج ایسے وقت میں جاری ہے جب فرانسیسی حکومت نے 2027 کے بجٹ میں اخراجات کم کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جنہیں پہلے ہی تنقید کا سامنا ہے۔